نِیلی: خفیہ یہودی نیٹ ورک اور سقوطِ بیت المقدس

انیسویں صدی کے اختتام پر یورپ کے سیاسی و سماجی منظرنامے میں اشکنازی یہود کی ایک منظم تحریک نے جنم لیا۔ یہ تحریک صیہونیت تھی، جس کی بنیاد آسٹریا کے صحافی اور مفکر تھیوڈور ہزل نے “یہودیوں کے قومی وطن کے قیام” کے نظریے پر رکھی۔ یہ تصور یورپ اور ایشیا میں آباد یہودیوں کے ساتھ ساتھ پروٹسٹنٹ عیسائی حلقوں میں بھی برق رفتاری سے مقبول ہونے لگا۔

ہزل نے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے عثمانی خلیفہ کی دہلیز پر دستک دی اور پیشکش رکھی کہ اگر ارضِ مقدس میں یہودیوں کو آباد کاری کی اجازت دی جائے تو وہ سلطنتِ عثمانیہ کے تمام غیر ملکی قرضے اتارنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر خلیفہ نے اس پیشکش کو غیرت و حمیت کے ساتھ یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا تاریخی اور دوٹوک جواب تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی فروخت کرنے کے روادار نہیں۔

اس دوٹوک انکار کے بعد صیہونی قیادت نے اپنی حکمتِ عملی کی بساط پلٹ دی۔ انہوں نے فلسطین گورنریٹ کے زیرِ انتظام، مگر ارضِ مقدس کے مرکز سے ہٹ کر، حیفہ کے ساحلی خطے میں زمینیں خریدنا شروع کیں۔ یہاں تقریباً ڈھائی ہزار یہودی لا بسائے گئے۔ بظاہر یہ بستیاں جدید مشینی کاشت اور زرعی اصلاحات کے نام پر وجود میں لائی گئیں۔ کھیتوں میں نایاب فصلیں اگائی گئیں، زرعی تحقیقاتی مراکز کی بنیاد رکھی گئی، اور دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ یہ محض ایک پرامن سائنسی و زرعی منصوبہ ہے۔ لیکن انہی ہری بھری فصلوں کی آڑ میں ایک ایسا پراسرار جال بنا جا رہا تھا جو آگے چل کر پورے خطے کی تقدیر الٹ دینے والا تھا۔

انہی بستیوں سے ایک بااثر نام ابھرا: آہرون آرونسون۔ وہ نباتات کا نامور ماہر اور زرعی تحقیقاتی مرکز کا بانی تھا، مگر اس کی سرگرمیوں کا اصل میدان پودوں اور بیجوں سے کہیں آگے تھا۔ پسِ پردہ وہ برطانوی خفیہ ایجنسی (انٹیلی جنس) کے ساتھ گہرے روابط قائم کر چکا تھا اور اپنے زرعی مرکز کو ایک خفیہ اڈے کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ اس رازدارانہ نیٹ ورک کی باگ ڈور میں اس کی بہن سارہ آرونسون بھی برابر کی شریک تھی، جو اندرونی تنظیم سازی اور پیغام رسانی کے اعصابی نظام کو سنبھالے ہوئے تھی۔

اس جاسوسی گروہ کے سرکردہ کرداروں میں الیعزر بن یعقوب اور ایلیشع لیشانسکی (ابشالوم فائن برگ) جیسے زیرک اور مہم جو یہودی شامل تھے، جو خفیہ کارروائیوں اور رمزیہ پیغامات کی ترسیل کے بے تاج بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔ ان سب کے اشتراک سے ایک ایسی خفیہ تنظیم وجود میں آئی جو تاریخ میں نِیلی (NILI) کے نام سے جانی گئی۔

انہوں نے اپنا ماٹو عبرانی زبان کا یہ جملہ منتخب کیا: “נצח ישראל לא ישקר” (یعنی: “اسرائیل کا ابدی خدا وعدہ خلافی نہیں کرے گا”)۔

دن کے اجالے میں کھیتوں اور ریسرچ سینٹر میں محنت کرنے والے یہ یہودی نوجوان، درحقیقت رات کی تاریکی میں سلطنتِ عثمانیہ کے تابوت میں برطانوی کیلیں ٹھونک رہے تھے۔ ریلوے لائنوں کا جال، عثمانی فوج کے قلعے، ترک سپاہ کی نقل و حرکت اور رسد و بارود کے مراکز کی حساس معلومات کوڈز اور نامہ بر کبوتروں کے ذریعے قاہرہ میں بیٹھے برطانوی خفیہ دفاتر تک باقاعدگی سے پہنچائی جانے لگیں۔

پہلی جنگِ عظیم کا نقارہ بجا تو نِیلی کی یہی جاسوسیاں برطانوی عسکری حکمتِ عملی کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئیں۔ برطانیہ نے مصر کی سرزمین سے فلسطین کو روندنے کے لیے لگاتار تین بڑے حملے کیے۔ مگر غزہ کے محاذ پر ترک فوج کے جری “یلدرم گروپ” کی بے مثال شجاعت اور مقامی مجاہدین کے جذبۂ شہادت نے برطانوی افواج کے تینوں حملے خاک میں ملا دیے۔ پے در پے ہزیمت کے بعد، نِیلی ہی کی دی ہوئی خفیہ اور ٹھوس مخبری پر برطانوی کمان نے غزہ کا محاذ چھوڑ کر بئر السبع کا رخ کیا، جہاں عثمانی فوج کا محض چند سو پر مشتمل ایک چھوٹا دستہ تعینات تھا۔

31 اکتوبر 1917 کو بئر السبع برطانوی فوج کے قبضے میں چلا گیا۔ عثمانی فوج کا بڑا حصہ جب بئر السبع کی مدد کے لیے نکلا تو دوسری جانب برطانوی اور مصری فوج کے مشترکہ دستوں نے خالی ہوتے ہوئے غزہ پر یلغار کر دی، اور 7 نومبر کو غزہ کے سقوط نے فلسطین کی عثمانی دفاعی دیوار کو تار تار کر کے رکھ دیا۔

غزہ فتح ہوتے ہی برطانوی کمانڈر جنرل ایڈمنڈ ایلن بی نے برق رفتاری سے یروشلم کی طرف پیش قدمی کی، مگر شہر کے شمال مغرب میں “نبی سموئیل” کی دشوار گزار پہاڑیوں اور دروں میں عثمانی توپ خانے اور فلسطینی جانبازوں کی آہنی مزاحمت نے برطانوی لشکر کو نومبر کے آخری ایام تک روکے رکھا۔ تاہم دسمبر کے آغاز میں برطانوی فوج کو تازہ دم کمک آن پہنچی۔ مصری فوج اور انگریزوں سے گٹھ جوڑ کرنے والے بدو عرب قبائل کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ صف آرا ہو گئی۔ برطانویوں نے یروشلم پر مغرب، شمال اور جنوب، تینوں اطراف سے بیک وقت خونی دباؤ بڑھا دیا۔ عثمانی فوج نے سمندر کے راستے بیت المقدس کے محصور محافظین کو کمک پہنچانے کی اخری کوشش کی، لیکن عرب بدوؤں اور مصری فوج نے ساحلی پٹی پر یافا اور لد سے القدس جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کر کے انہیں کاٹ ڈالا۔

امدادی عثمانی دستوں کو نابلُس اور دریائے اردن کی سمت پسپا ہونا پڑا، جس کے ساتھ ہی قبلۂ اول کی حفاظت کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔ بالآخر 9 دسمبر 1917 کو بیت المقدس نے ہتھیار ڈال دیے۔

اور پھر 11 دسمبر 1917 کی تاریخ رقم ہوئی، جب جنرل ایڈمنڈ ایلن بی فاتحانہ انداز میں یروشلم میں داخل ہوا۔ جنگ کے اختتام پر برطانوی عسکری قیادت نے کھلے عام اعتراف کیا کہ فلسطین میں ان کی تمام کامیابیاں اور سقوطِ بیت المقدس کا معرکہ دراصل “نِیلی” کی فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات کا مرہونِ منت تھا۔

مگر دسمبر 1917 کے آخری ایام میں ہی نِیلی کی قسمت کا پانسہ پلٹ گیا۔ ایک کبوتر، جو مصر کے برطانوی اڈے کی طرف خفیہ پیغام لے کر محوِ پرواز تھا، راستہ بھٹک کر عثمانی سپاہیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ یہ اکیلا خط اس پورے خفیہ نیٹ ورک کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوا۔ عثمانی افواج نے بجلی کی تیزی سے چھاپہ مار کر سارہ آرونسون کو حیفہ میں دبوچ لیا۔ دورانِ تفتیش اس نے تنظیم کے ڈھانچے کے متعلق اہم انکشافات تو کیے، مگر مزید عسکری راز افشا ہونے سے بچانے کے لیے خودکشی کر لی۔ اس تفتیش کے نتیجے میں نِیلی کے ایک درجن سے زائد اہم جاسوس دھر لیے گئے، جن میں سے بیشتر قید و دار کی نذر ہوئے، جبکہ چند ایک فرار ہو کر برطانوی صفوں یا مصر پہنچنے میں کامیاب رہے۔

صیہونی تحریک اور بعد ازاں اسرائیلی ریاست نے نِیلی کے کارندوں کو اپنے “قومی ہیروز” کا درجہ دیا، جن کی یاد میں حیفہ کے مضافات میں ایک یادگار اور میوزیم قائم ہے—کیونکہ یہ وہی زرخرید اور پراسرار نیٹ ورک تھا جس نے ارضِ فلسطین میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور ایک صیہونی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کیا تھا۔

حوالہ جات:

  • Anita Shapira, Land and Power: The Zionist Resort to Force, 1881–1948, Stanford University Press, 1999.
  • Ronald Florence, Lawrence and Aaronsohn: T.E. Lawrence, Aaron Aaronsohn, and the Seeds of the Arab-Israel Conflict, Viking, 2007.

2 thoughts on “نِیلی: خفیہ یہودی نیٹ ورک اور سقوطِ بیت المقدس”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *