مشرقِ وسطیٰ کی جدید تاریخ کے ایک سب سے طویل اور خونچکاں باب کا اختتام اب بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔ 13 اگست 2026ء کی رپورٹس (بشمول ایسوسی ایٹڈ پریس، اسٹارز اینڈ اسٹرائپس اور یو ایس نیوز) کے مطابق عراقی وزیر اعظم علی الزیدی اور اعلیٰ امریکی حکام نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ 30 ستمبر 2026ء تک امریکہ اپنی تمام تر فوجی موجودگی عراق سے مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس تاریخ کو “فکسڈ اینڈ فائنل” یعنی حتمی و غیر متزلزل قرار دیا گیا ہے۔ یہ تاریخی قدم 2024ء میں طے پانے والے امریکہ-عراق معاہدے کی مکمل پاسداری اور آخری کڑی ہے، جس کے تحت داعش (ISIS) کے خلاف قائم عالمی اتحاد (Global Coalition Mission) کو باضابطہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔

یہ انخلاء محض ایک عسکری نقل و حرکت نہیں بلکہ 23 سال پر محیط ایک پیچیدہ جنگی و سیاسی تاریخ کا ڈرامائی اختتام ہے۔ جب 20 مارچ 2003ء کو “آپریشن عراقی فریڈم” کے تحت امریکی قیادت میں تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار فوجیوں نے عراق پر چڑھائی کی تھی، تو کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ فوجی موجودگی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر پھیل جائے گی۔ حملے کے بعد 2004ء سے 2006ء کے دوران شدید بغاوت اور فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں امریکی فوج کی تعداد 1 لاکھ 30 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ 45 ہزار تک جا پہنچی۔ اس بحران کو قابو میں لانے کے لیے اگست 2007ء میں صدر بش کے دورِ حکومت میں “بش سرج” (Bush Surge) کا آغاز ہوا، جس کے دوران عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی۔
بعد ازاں، 2008ء سے 2010ء کے دوران سیکیورٹی معاہدے (SOFA) کے تحت امریکی افواج نے عراقی شہروں سے نکلنا شروع کیا اور ان کی تعداد تدریجاً کم ہوتی گئی۔ دسمبر 2011ء میں صدر اوباما کے دور میں باقاعدہ جنگی انخلاء کے بعد عراق میں محض سفارتی تحفظ کے لیے نام برائے نام عملہ رہ گیا۔ تاہم 2014ء میں داعش کے غیر متوقع عروج اور عراقی حکومت کی باضابطہ درخواست پر “آپریشن انہیرنٹ ریزالو” کے تحت امریکی فورسز واپس آ گئیں۔ جن کی تعداد تقریباً 5 ہزار تک رہی ہے۔
داعش کی علاقائی شکست کے بعد 2017ء سے 2021ء کے دوران اس مشن کی نوعیت عسکری کے بجائے مشاورتی ہوتی گئی، اور دسمبر 2021ء میں جنگی مشن کو باضابطہ ختم کر کے صرف “مشورہ و معاونت” (Advise & Assist) تک محدود کر دیا گیا جس میں تقریباً 2,500 اہلکار شامل تھے، لیکن عراق میں امریکہ کا سیاسی اثر بہت زیادہ تھا۔ ستمبر 2024ء میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے مرحلہ وار انخلاء کا معاہدہ کیا تھا، اس کے تحت اگست 2025ء سے عملی انخلاء کا آغاز ہوا۔ جنوری 2026ء تک الاسد ایئر بیس اور بغداد بیسز سمیت تمام اہم ترین تنصیبات عراقی فورسز کے مکمل کنٹرول میں دے دی گئیں اور باقی ماندہ قلیل تعداد کو صرف کردستان ریجن (اربل و حریر) تک محدود کر دیا گیا۔ جولائی اور اگست 2026ء میں صدر ٹرمپ اور عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کی اعلیٰ سطحی ملاقات میں 30 ستمبر 2026ء کی تاریخ کی حتمی تصدیق کی گئی، جس کے بعد 23 سال بعد امریکی عسکری موجودگی کا چیپٹر مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔
سیاسی و دفاعی تجزیہ کار اس پیش رفت کو محض عراق کی حدود تک محدود نہیں دیکھ رہے، بلکہ اسے پوری خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں ایک زلزلہ نما تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایران کی جانب سے ہمیشہ سے یہ غیر متزلزل شرط رکھی جاتی رہی ہے کہ خلیج سے امریکی عسکری موجودگی کا خاتمہ ہی خطے میں کسی بھی پائیدار امن، سفارتی معمولات اور سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ چنانچہ عراق سے امریکہ کی یہ مکمل واپسی ایران کے اس دیرینہ موقف کی کامیابی اور خلیج میں امریکی اثر و رسوخ کے انحطاط کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
امریکہ کی بتدریج واپسی اور اس کی عالمی ترجیحات کی ایشیا پیسفک کی طرف منتقلی کو بھانپتے ہوئے خلیجی ممالک نے بھی اب امریکی دفاعی چھتری پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے لیے متبادل سیکیورٹی انتظامات پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں اور پیش رس پیش رفت “سعودیہ-پاکستان دفاعی معاہدہ” ہے، جس نے خطے کے دفاعی توازن میں ایک نیا سٹریٹجک ستون قائم کیا ہے۔ اس معاہدے میں ترکی کی فعال شمولیت اور سہ فریقہ تعاون کے بعد ایک مضبوط اسلامی و علاقائی دفاعی بلاک کی بنیاد پڑ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ابھرتے ہوئے سیکیورٹی بلاک میں آنے والے دنوں میں دیگر اہم خلیجی و عرب ممالک کی شمولیت کے قوی امکانات موجود ہیں، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کا نیا دفاعی نظام کسی بیرونی طاقت کے بجائے خود خطے کی اہم مسلم طاقتوں کی مشترکہ حکمتِ عملی پر منحصر ہوگا۔
یہ واضع ہے کہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی کثیر القطبی (Multi-polar) حقیقت واضع طور پر نظر آنا شروع ہو چکی ہے۔ بیرونی افواج کے انخلاء، ایران کے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل وزن اور سعودیہ-پاکستان-ترکی پر مشتمل نئے دفاعی اشتراک نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب اپنی سیکیورٹی کا فیصلہ خود کرنے کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
کوئی بتا سکتا ہے کہ امریکہ کی فوج کے اس جم غفیر کا خلیجی خطے کو کتنا فائدہ ہواکتنی علاقائی سلامتی کی ضمانت ملی اور عربوں کو کتنا تحفظ نصیب ہوا
عصا نہ ہو تو کار کلیمی ہے بے بنیاد