وسطی ایشیا، وہ سرزمین جو کبھی ماوراءالنہر اور خراسان کے نام سے جانی جاتی تھی، صدیوں سے تہذیبوں کا سنگم رہی ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے گزرنے والی تاریخی شاہراہِ ریشم نے چین، ایران، ہندوستان اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑا۔ سمرقند، بخارا، خوارزم اور مرو جیسے تاریخی شہر صرف تجارت کے مراکز نہیں تھے بلکہ علم، فن، فلسفہ اور سیاست کے عظیم گہوارے بھی تھے۔
اسلام کے ظہور سے پہلے یہاں بدھ مت، زرتشتیت اور مقامی عقائد رائج تھے۔ تاہم، ساتویں صدی میں جب یہاں اسلامی پرچم لہرا تو یہ خطہ نہ صرف اسلام کی آغوش میں آیا بلکہ علم و تہذیب کا روشن ستارہ بن گیا۔ تیمور کے دور میں اسے ارضِ رُومان کہا جانے لگا، یعنی ایک ایسا علاقہ جو حسنِ تعمیر، دانش اور روحانیت کا مرکز بن گیا تھا۔ موجودہ ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان انہی تاریخی جڑوں کے حقیقی وارث ہیں۔
مگر اسی خطے نے روسی استعمار اور سوویت جبر کا وہ تلخ دور بھی دیکھا جس نے اس کے روحانی اور سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔
یہ تفصیلی مضمون ساتویں صدی میں اسلامی تہذیب کے آغاز سے لے کر بیسویں صدی کے اوائل میں سوویت استبداد کے خلاف بسماچی مزاحمت (Basmachi movement) کی شکست تک کے تاریخی سفر کا احاطہ کرتا ہے۔ ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ وسطی ایشیا نے علمی و تہذیبی عروج کیسے حاصل کیا، بیرونی قوتوں (منگولوں اور روسیوں) نے اس کے سیاسی خدوخال کو کیسے بگاڑا، اور بالآخر وہ مقامی اسلامی و قومی مزاحمت کیوں کمزور پڑ گئی جو آزادی اور ایمان کے لیے لڑی گئی۔
اسلامی تہذیب کی جڑیں اور ماوراءالنہر کا علمی عروج
اسلام وسطی ایشیا میں ساتویں صدی کے وسط میں داخل ہوا۔ عرب افواج نے ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعد دریائے جیحوں پار کیا، اور اموی خلافت کے دور میں ماوراءالنہر کے بیشتر علاقے اسلام کے زیرِ اثر آگئے۔ مقامی آبادی نے رفتہ رفتہ عربوں کے ساتھ رہ کر اسلام کو قبول کیا اور پھر اسے اپنی تہذیب میں جذب کر لیا۔
عباسی خلافت کے قیام کے بعد یہ سرزمین علم و فکر کا عالمی مرکز بن گئی۔ سمرقند اور بخارا میں مدارس، لائبریریاں اور علمی مجالس قائم ہوئیں۔ اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ مکمل نظامِ زندگی کے طور پر پھیلا، جس نے بعد میں روسی اور سوویت تسلط کے خلاف بسماچی تحریک کو فکری بنیاد فراہم کی۔
عظیم محدثین اور بخارا کی علمی شان
امام بخاری، امام ترمذی اور امام نسائی جیسے جلیل القدر محدثین اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے۔ بخارا کی علمی شان کا اندازہ اس قول سے لگایا جا سکتا ہے:
“علم ایک درخت ہے جس کی جڑیں مکہ میں، شاخیں مدینہ میں، پتے عراق میں، اور پھل خراسان میں ہیں۔”
یہ علمی خودمختاری بعد کے ادوار میں وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے فکری ڈھال بنی، خاص طور پر اس وقت جب لادین سوویت حکومت نے ان کی اسلامی شناخت مٹانے کی کوشش کی۔
سامانی عہدِ زریں اور فارسی ثقافت کا احیاء
جب عباسی خلافت کی گرفت ڈھیلی پڑی تو ماوراءالنہر میں سامانی سلطنت نے جنم لیا۔ 874ء میں قائم ہونے والی دولتِ سامانیہ نے بخارا کو اپنا دارالحکومت بنایا اور فارسی زبان کو سرکاری و ادبی زبان کے طور پر زندہ کیا۔
یہ وہ دور تھا جب بخارا اور سمرقند بغداد کے ہم پلہ علمی مراکز بن گئے۔ لائبریریاں، دارالترجمہ اور شعرا و فلاسفہ کی محفلیں عام ہوئیں۔ رودکی، فردوسی اور ابن سینا جیسے عالمگیر دانشور اسی فضا میں پروان چڑھے۔
سامانی حکمرانوں نے اعلان کیا تھا کہ “یہاں کی زبان فارسی ہے، اور ہم فارسی بادشاہ ہیں۔” یہ اعلان صرف لسانی فیصلہ نہیں بلکہ تہذیبی خودمختاری کا اظہار تھا۔ اسی دور میں فارسی تہذیب نے وسطی ایشیا میں اپنی جڑیں گہری کیں، جنہوں نے بعد میں تاجک قومی شناخت کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ تاجکستان نے سامانیوں کو اپنی ریاستی علامت بنایا، اور اسماعیل سامانی کا شاندار مجسمہ آج بھی دوشنبہ کے قلب میں اس تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔
منگول یلغار اور روسی تسلط
1219ء میں چنگیز خان کی قیادت میں منگول افواج نے خوارزم شاہی سلطنت کو روند ڈالا۔ بخارا اور سمرقند جلا دیے گئے، کتابیں راکھ ہو گئیں، اور ہزاروں لوگ تہِ تیغ کیے گئے۔ مگر یہ سرزمین جتنی بار مٹی میں ملائی گئی، اتنی ہی بار پھر سے ابھری۔
منگولوں کے بعد تیموری اور شیبانی ادوار آئے، اور بالآخر انیسویں صدی میں امارتِ بخارا وجود میں آئی۔ مگر روسی سلطنت کی توسیع پسندی نے جلد ہی اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ 1868ء میں روس کے ساتھ جنگوں کے بعد بخارا ایک “محافظ ریاست” بن گئی، جہاں روسی تاجر اور فوجی کھلے عام اثر و رسوخ رکھنے لگے۔
یہی وہ زمین تھی جس پر بعد میں بسماچی مزاحمت کا بیج بویا گیا، ایک ایسی تحریک جس نے زارِ روس اور بالشویک دونوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔
بسماچی تحریک: آزادی اور ایمان کی آخری کوشش
پہلی جنگِ عظیم کے دوران 1916ء میں جب روس نے مسلمانوں سے جبری فوجی بھرتی شروع کی تو عوامی غصہ ایک منظم بغاوت میں بدل گیا۔ یہی بغاوت بعد میں ایک وسیع مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ یہ وہ دور تھا جب ازبک، تاجک، کرغیز، قازق اور ترکمان عوام روسی تسلط کے خلاف ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اُن کی قیادت زیادہ تر مذہبی علما، سابق عسکری افسران اور مقامی سرداروں کے ہاتھ میں تھی۔
کوکند خانیت کا سقوط اور عوامی اشتعال
1917ء کے بالشویک انقلاب کے بعد ترکستان کے مسلمانوں نے خودمختار ریاست کوکند خانیت کے احیاء کا اعلان کیا۔ لیکن آزادی کی یہ کوشش زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ فروری 1918ء میں بالشویک فوجوں نے کوکند شہر پر حملہ کر کے پورے شہر کو خاکستر کر دیا۔
تین دن کے قتلِ عام میں 15,000 سے 20,000 مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید کر دیے گئے۔ مساجد اور مدارس جلا دیے گئے۔ اس سانحے نے پورے ترکستان میں روسی ظلم کے خلاف عوامی غصہ بھڑکا دیا، جو بسماچی تحریک کے حقیقی آغاز کا سبب بنا۔
سوویت حکومت نے انہیں “بسماچی” (یعنی ڈاکو) کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی، مگر حقیقت میں یہ تحریک آزادی، ایمان اور عزتِ نفس کی جنگ تھی۔ اس تحریک کے میں دو بڑے نظریاتی دھارے شامل تھے:
- وہ جو اسلام اور خلافت کے تحت اتحاد چاہتے تھے۔
- وہ جو پان ترکی ازم (تمام ترک اقوام کے مشترکہ وفاق) کے قائل تھے۔
بدقسمتی سے انہی نظریاتی اختلافات نے بعد میں اس تحریک کو داخلی طور پر کمزور بھی کیا۔
انور پاشا کی آمد اور مزاحمت کا عروج
1921ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے سابق وزیرِ جنگ انور پاشا وسطی ایشیا پہنچے۔ ان کا خواب تھا کہ خطے کے تمام مسلمان متحد ہو کر ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کریں جو ترک و تاجک، بخاری و افغانی سب کو ایک لڑی میں پرو دے۔
انور پاشا کی آمد نے بسماچی تحریک میں زبردست روح پھونک دی۔ انہوں نے بکھرے ہوئے مجاہدین کو منظم کر کے 16 ہزار افراد پر مشتمل ایک باقاعدہ فوج کھڑی کر دی اور سوویت افواج کو متعدد محاذوں پر شکست دی۔ 1922ء کے ابتدائی ایام میں اس فوج نے سوویت افواج کو سمرقند اور دوشنبہ تک سے پسپائی پر مجبور کر دیا۔
غداری اور انور پاشا کی شہادت
جب ایسا دکھائی دینے لگا کہ سوویت افواج وسطی ایشیا سے مکمل طور پر نکل جائیں گی، اس موقع پر اندرونی اختلافات اور غداری نے بازی پلٹ دی۔ ابراھیم بیگ جیسے مقامی کمانڈروں نے انور پاشا کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
اگست 1922ء میں انور پاشا دوشنبہ کے قریب سوویت فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد تحریک چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہو گئی، تاہم مجاہدین کے چھاپہ مار گروہ 1942ء تک روسی چوکیوں، ریل لائنوں اور سرکاری دفاتر پر کارروائیاں کرتے رہے۔
سوویت انسدادِ بغاوت: طاقت، سیاست اور دھوکہ
سوویت حکومت نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے دو طرفہ حکمتِ عملی اپنائی:
- ظلم و تشدد: تحریک سے الگ ہونے والوں کو رعایتیں دی گئیں، جبکہ مجاہدین کی مدد کرنے والے خاندانوں کے خلاف بے رحمانہ کارروائیاں کی گئیں۔
- سیاسی چالیں: عارضی طور پر اسلام مخالف پالیسیوں کا نفاذ روکا گیا، مفت غذائی امداد تقسیم کی گئی اور ٹیکس میں نرمی کی گئی تاکہ عوامی حمایت ختم کی جا سکے۔
- مقامی ملیشیا: سرخ فوج نے مقامی نوجوانوں پر مشتمل سرخ چھڑیاں نامی ملیشیا بنائی، جسے مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کیا گیا۔
سوویت پروپیگنڈا نے بسماچیوں کو “برطانوی ایجنٹ” اور “دہشت گرد” قرار دیا، حالانکہ وہ اپنی زمین اور عقیدے کی حفاظت کے لیے لڑ رہے تھے۔
جدیدیت پسند مسلم رہنماؤں (جدیدی) جیسے فیض اللہ خوجایوف نے ابتدا میں سوویت حکومت سے مفاہمت کی کوشش کی، مگر جیسے ہی مزاحمت کمزور ہوئی، کمیونسٹوں نے انہی رہنماؤں کو ختم کرنا شروع کر دیا۔ 1938ء میں فیض اللہ خوجایوف کو سرِعام پھانسی دے دی گئی۔ ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کر کے سائیبیریا کے برفانی کیمپوں میں جبری مشقت کے لیے بھیجا گیا۔ انہی قیدیوں کے خون اور محنت سے ہائی وے آف ڈیتھ تعمیر ہوئی، جس کے ہر میل پر کسی نہ کسی مسلمان مجاہد کی قربانی شامل ہے۔
نتیجہ: تاریخ کا ایک انمٹ باب
بسماچی تحریک عسکری لحاظ سے ناکام ضرور ہوئی، مگر فکری اور روحانی طور پر ایک مشعل بن گئی۔ اس نے وسطی ایشیا کے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ایمان اور آزادی ہر چیز پر مقدم ہے، اور کوئی بھی جابر طاقت (خواہ وہ چنگیز خان ہو یا اسٹالن) دلوں میں جلنے والی آزادی کی شمع کو نہیں بجھا سکتی۔
بسماچی مجاہدین نے قربانی کی جو داستان رقم کی، وہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔ سوویت یونین کے بے پناہ مظالم کے باوجود ان کے خون سے لکھی گئی داستان آج بھی وسطی ایشیا کی ہواؤں میں زندہ ہے۔ یہ ان تمام شہیدوں کا خاموش پیغام ہے کہ ایمان اور آزادی کی جدوجہد کبھی رائگاں نہیں جاتی۔

Excellent