بانیانِ دارالعلوم دیوبند اور سر سید احمد خان: ایک تاریخی تناظر


کیا آپ جانتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کے بانیان، مولانا محمد قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی اور بانی علیگڑھ کالج سرسید احمد خان تینوں دہلی کالج کے تعلیم یافتہ تھے؟

سرکاری ریکارڈ کے مطابق، محمد قاسم نانوتوی نے 1844ء میں دہلی کالج میں داخلہ لیا۔ اُن کا نام کالج کے سرکاری رجسٹر میں پہلے ہی سال درج ہے۔ اُن کا یہ داخلہ کالج کے نامور استاد پروفیسر مملوک علی نانوتوی کی سفارش پر ہوا تھا، جو رشتہ داری کے علاوہ اسی کالج سے وابستہ تھے۔ انہوں نے کالج میں منطق، فلسفہ، ریاضی اور اقلیدس (جیومیٹری) کے مضامین اختیار کیے۔ تاہم، اُن کا نام کالج کے فارغ التحصیل (Graduated) طلبہ میں شامل نہیں۔ یہ بات تصدیق شدہ نہیں کہ آیا وہ امتحان میں ناکام ہوئے تھے یا اُنہوں نے امتحان دیا ہی نہیں تھا۔ البتہ یہ امر مسلّم ہے کہ اُنہوں نے دہلی میں تقریباً چھ سال کا عرصہ گزارا، اور اس دوران وہ پروفیسر مملوک علی صاحب سے گھر پر بھی اسباق پڑھتے رہے۔ وہ سترہ سال کی عمر میں دہلی سے اپنے وطن لوٹے۔

اسی طرح مولانا رشید احمد گنگوہی نے ابتدائی فارسی کرنال میں اپنے ماموں مولانا محمد تقی سے، اور عربی صرف و نحو کی ابتدائی کتب محمد بخش رامپوری سے پڑھیں پھر سترہ سال کی عمر میں قاضی احمد الدین پنجابی جہلمی سے مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دہلی اے۔ لیکن چند ہی دنوں بعد وہ بھی دہلی کالج میں داخل ہو گئے، جہاں اُن کی مولانا محمد قاسم نانوتوی سے پہلی ملاقات ہوئی۔ دونوں نہ صرف ہم درس بنے، بلکہ کالج کے اوقات کے بعد پروفیسر مملوک علی صاحب کے نجی شاگرد بھی رہے۔

یہاں ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان دونوں شخصیات کے ایک نامور پیشرو سر سید احمد خان بھی تھے۔ اگرچہ قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی، سر سید کے بالواسطہ ہم جماعت (ایک ہی بیچ کے کلاس میٹ) نہیں تھے، تاہم ان تینوں کا تعلق ایک ہی استاد—پروفیسر مملوک علی نانوتوی—سے تھا، جو دہلی کالج میں صدر مدرس تھے۔ سر سید بھی انہی کی وساطت سے کالج میں داخل ہوئے تھے اور ان کے نجی شاگرد رہے تھے۔ اس لحاظ سے وہ ایک ہی علمی روایت اور استاد کے سلسلے سے منسلک تھے، مگر عمر اور دور کے فرق کی بنا پر ایک ساتھ نہ پڑھ سکے۔

سر سید نے اپنی روایتی تعلیم (عربی، فارسی، قرآن، حدیث، فقہ اور ریاضی وغیرہ) 1830ء کی دہائی کے اوائل میں دہلی سے مکمل کر لی تھی، جبکہ قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی نے 1840ء کی دہائی میں تعلیمی مراحل طے کیے۔

ایک نظر دہلی کالج کے تاریخی ارتقا پر ڈالتے ہیں

دہلی کالج برصغیر کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جس کی تاریخ 300 سال سے زائد پرانی ہے۔ اس کی شروعات سترھویں صدی کے آخر (تقریباً 1696ء یا 1700ء) میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے نامور سپاہ سالار غازی الدین خان (جو حیدرآباد کے پہلے نظام کے والد تھے) نے “مدرسہ غازی الدین خان” کے طور پر کی۔ یہ مدرسہ اجمیری دروازے کے باہر واقع تھا، جس کے احاطے میں مسجد، مقبرہ اور مدرسہ شامل تھے۔

  • 1792ء: دہلی کے متمول شہریوں نے اس کا انتظام سنبھالا اور اسے ادب، سائنس اور فنون کے مشرقی کالج کے طور پر نیا روپ دیا، جہاں نثر، ادب، منطق، فلسفہ، فقہ، نجوم اور طب کی تعلیم دی جانے لگی۔
  • 1824–1825ء: برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے “دہلی کالج” کا نام دیا۔
  • 1827–1828ء: یورپی اصولوں پر مبنی فلکیات اور ریاضی کی تعلیم شروع کی گئی، اور 1828ء میں انگریزی زبان و ادب کا شعبہ قائم ہوا۔
  • 1829ء: اودھ کے وزیر نواب اعتماد الدولہ نے مشرقی علوم کے فروغ کے لیے 1 لاکھ 70 ہزار روپے کا وقف قائم کیا۔ ذریعہ تعلیم زیادہ تر اردو (ہندوستانی) تھا اور کالج نے مغربی سائنسی علوم (ریاضی، فلسفہ، جغرافیہ، سرجری وغیرہ) کے تراجم اردو میں شائع کیے۔
  • 1832ء: “ورنیکلر سوسائٹی” کا قیام عمل میں آیا، جس نے سائنس اور ریاضی سمیت دیگر مضامین پر تقریباً 128 کتابیں شائع کیں۔ یہ دور “دہلی رینیسانس” (عصرِ نو) کا سنہری باب کہلاتا ہے، جہاں مشرقی و مغربی علوم کا باہمی امتزاج ہوا۔ 1845ء تک یہاں طلبہ کی تعداد 460 تک پہنچ چکی تھی۔
  • 1857ء: جنگِ آزادی (بغاوت) کے دوران کشمیری گیٹ پر واقع کالج کی عمارت کو لوٹ لیا گیا اور ادارہ بند ہو گیا۔
  • 1862–1877ء: 1862ء میں امتحانات کا دوبارہ آغاز ہوا، اور 1864ء سے 1871ء کے درمیان انٹرمیڈیٹ، بی اے اور ایم اے کی کلاسز شروع کی گئیں۔ تاہم 1877ء میں اسے بند کر کے اس کا عملہ اور لائبریری لاہور منتقل کر دی گئی۔
  • 1924–1948ء: 1924ء میں اسے “اینگلو عربی انٹرمیڈیٹ کالج” کے طور پر بحال کیا گیا، 1925ء میں دہلی یونیورسٹی سے الحاق ہوا اور 1929ء میں یہ ڈگری کالج بن گیا۔ تقسیمِ ہند کے پرتشدد واقعات میں اسے نقصان پہنچا، مگر لائبریری محفوظ رہی۔ 1948ء میں ڈاکٹر ذاکر حسین نے اس کی مسلم شناخت کو ختم کر کے اسے ایک مکمل سیکولر ادارے میں تبدیل کر دیا۔
  • 1975ء سے حال: 1975ء میں اسے “ڈاکٹر ذاکر حسین کالج” کا نام دیا گیا اور 1986ء میں یہ موجودہ کیمپس (جواہر لعل نہرو مارگ، ترکمان گیٹ) منتقل ہوا۔ بالآخر 2010ء میں اس کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا نام “ذاکر حسین دہلی کالج” کر دیا گیا۔ آج یہ دہلی یونیورسٹی سے ملحقہ ایک اہم ڈگری کالج ہے جو آرٹس، سائنس اور کامرس میں تعلیم فراہم کرتا ہے۔
کالج نے بالخصوص اردو کے ذریعے سائنسی علوم کی اشاعت میں تاریخی کردار ادا کیا۔ جہاں ماضی میں یہ صرف مردوں کے لیے تھا، وہیں جدید دور میں یہ ایک مخلوط (Co-ed) تعلیمی ادارہ ہے۔ اس ادارے سے وابستہ چند انتہائی اہم شخصیات درج ذیل ہیں:

ادبی، سائنسی و تاریخی شخصیات:

  • ماسٹر رام چندر: نامور ریاضی دان اور استاد، جنہوں نے اردو میں ریاضی کی تدریس اور کتب نگاری کو فروغ دیا۔
  • سر سید احمد خان: بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (کالج کی علمی تحریک سے وابستہ)۔
  • ڈپٹی نذیر احمد: اردو کے پہلے ناول نگار اور معروف آئی سی ایس آفیسر۔
  • مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی: بانیانِ دارالعلوم دیوبند۔
  • محمد حسین آزاد: اردو کے صاحبِ طرز نثر نگار اور ناقد۔
  • علی سردار جعفری: معروف ترقی پسند شاعر اور فلمی گیت نگار۔
  • اختر الایمان: ممتاز اردو شاعر اور ہندی سنیما کے اسکرین رائٹر۔
  • پروفیسر گوپی چند نارنگ: اردو و فارسی کے عالمی شہرت یافتہ ناقد اور سابق صدر ساہتیہ اکیڈمی۔

سیاسی، انتظامی و دیگر شعبہ جات:

  • جے این دکشت: سابق فارن سیکرٹری اور قومی سلامتی مشیر (NSA)۔
  • ڈاکٹر ہرش وردھن: سابق مرکزی وزیر برائے صحت و سائنس و ٹیکنالوجی۔
  • ہارون یوسف: دہلی حکومت کے سابق سینئر وزیر۔
  • جگدیش ٹائٹلر اور سکندر بخت: معروف سیاست دان۔
  • راوی چتوریدی: ہندی کرکٹ کمنٹیٹر (سابق فیکلٹی)۔
  • ڈاکٹر پی کے دیو: سابق ڈائریکٹر، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS)۔
  • ڈاکٹر وکاس دیویاکیرتی: بانی و ڈائریکٹر “دریشتی آئی اے ایس” (Drishti IAS)۔
  • بھیشم ساہنی: معروف ہندی مصنف اور ڈرامہ نگار (بطور فیکلٹی وابستہ رہے)۔

نمایاں خاتون طالبات: جدید دور میں فارغ التحصیل ہونے والی طالبات میں مس اریجیتا سنہا رائے (ریسرچ اسسٹنٹ)، مس چیتنا ملہوترا (کلینیکل ریسرچ)، مس فرہا فضل (ماہرِ نفسیات) اور مس ناظیہ حسن (ایڈووکیٹ) شامل ہیں۔

یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کچھ روشنی پروفیسر مملوک علی نانوتوی (1789ء – 1851ء) پانیسویں صدی میں شمالی ہند کے جلیل القدر عالم، ممتاز مدرس اور “دہلی رینیسانس” کی مرکزی علمی شخصیت تھے۔

  • آپ کا تعلق نانوتہ (ضلع سہارنپور) کے ایک علمی و فاروقی خاندان سے تھا۔ آپ کا نسبی تعلق شیخ صفی الدین نانوتوی سے ملتا ہے۔
  • آپ شاہ ولی اللہ دہلوی کے تعلیمی سلسلے ایک کڑی تھے۔ آپ نے معقولات (منطق، فلسفہ، ریاضی) اور منقولات (حدیث، فقہ، تفسیر) میں یکساں مہارت حاصل کی۔ دہلی کالج میں عربی اور علومِ مشرق کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور بالآخر وہاں کے صدر مدرس (Head Teacher) کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔
  • مولانا مملوک علی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ان کی پیدا کردہ “علمی قیادت” ہے۔ برصغیر کی جدید اور روایتی دونوں تعلیمی تحریکوں کے بانیان نے بلاواسطہ یا بالواسطہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ سر سید احمد خان، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، ڈپٹی نذیر احمد اور مولانا محمد مظہر نانوتوی (بانی مظاہر علوم سہارنپور) سب ان کے ممتاز تلامذہ میں شامل تھے۔
  • آپ نہایت سادہ لوح، علم پرور اور شفیق استاد تھے۔ دہلی میں اپنے سرکاری فرائض کے بعد وہ گھر پر بھی طلبہ کو بغیر کسی معاوضے کے نجی طور پر پڑھایا کرتے تھے اور غریب طلبہ کی مالی سرپرستی بھی فرماتے تھے۔ 1851ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ دہلی میں غازی الدین مدرسے کے احاطے میں مدفون ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *