شامی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان اور اسٹریٹجک گریٹ گیم کا نیا رُخ

شام کے وزیر خارجہ کا حالیہ دورۂ پاکستان اور بالخصوص عسکری قیادت و فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی تفصیلی ملاقات روایتی سفارتی دائرہ کار اور رسمی پروٹوکول سے کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ جہت اثرات کا حامل ہے۔ اس پیش رفت کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کا عمیق جائزہ لینا ضروری ہے، جس میں اسرائیل اور “سُنی ایکسس” کے درمیان محاذ آرائی روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں طاقت کا روایتی توازن یکسر بدل چکا ہے۔ اس معاہدے کی بنیادی روح “ایک پر حملہ، سب پر حملہ” کا اجتماعی دفاعی اصول ہے، جس کے باعث عبرانی میڈیا اور اسرائیلی دفاعی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا اور تل ابیب نے اسے عملی طور پر اپنے وجود کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیا۔

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خطے کی بساط پر ایک سنسنی خیز اور فیصلہ کن واقعہ اس وقت رونما ہوا جب نئی شامی حکومت نے حمص کے قریب واقع تاریخی اور تزویراتی تیفور (T-4 / Tiyas) ائیر بیس کا انتظامی و دفاعی کنٹرول باضابطہ طور پر برادر اسلامی ملک ترکیہ کے حوالے کر دیا۔ ترکیہ نے فوری طور پر اس ائیر بیس پر اپنے فضائی دفاعی اثاثے، جدید ڈرونز اور فارورڈ آپریشنل دستے تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ عین اس روز، جب ترک فضائیہ کے کارگو طیاروں اور اثاثوں کی آمد کے ساتھ آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا، اسرائیلی فضائیہ نے رات کی تاریکی میں تیفور ائیر بیس کی اسٹوریج فیسلٹیز، کنٹرول ٹاور اور رن ویز کو شدید بمباری کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا تاکہ ترک جنگی طیارے وہاں لینڈ نہ کر سکیں۔ اس کھلی جارحیت کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے مابین براہِ راست عسکری تصادم کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، اور چونکہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ترکیہ کا دفاع پاکستان اور سعودی عرب کا اپنا دفاع تصور ہوتا ہے، اس لیے یہ دونوں ممالک خود کو اس تنازع سے کسی صورت الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے۔

یہاں پر واضع رہے کہ “مکہ دفاعی معاہدے” کے بعد ایک متوازی محاذ کا جنم بھی دیکھائی دے رہا ہے جہاں مکہ دفاعی معاہدے کے دباؤ کے توڑ کے طور پر ایک چہار فریقی “اینٹی مکہ الائنس” کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس میں اسرائیل، یونان، متحدہ عرب امارات اور بھارت شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس نئے اتحاد پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے اور اس میں وہ تمام طاقتیں یکجا ہو رہی ہیں جو “مکہ بلاک” کے وجود اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے گہرا خطرہ محسوس کرتی ہیں، جن میں بحیرہ روم میں ترکیہ کے خلاف یونانی تحفظات، خلیج میں سعودیہ کے خلاف اماراتی برتری کا تحفظ، اور جنوبی ایشیا میں بھارت کے پاکستان مخالف تزویراتی عزائم شامل ہیں۔

اس جغرافیائی کشمکش میں شام کی اہمیت مرکزی اور دو چند ہو جاتی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر شام ہی وہ واحد ریاست ہے جس کی سرحد مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے راستے براہِ راست اسرائیل سے ملتی ہے اور جہاں کی موجودہ حکومت اسرائیل کے کسی تسلط یا مفاہمت کے تابع نہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل کی بقیہ سرحدیں مصر اور اردن سے ملتی ہیں جہاں دہائیوں کے امن معاہدوں کے تحت مغرب و صیہونی نواز حکومتیں قائم ہیں اور وہ سرحدیں تل ابیب کے لیے عملاً غیر معاندانہ اور محفوظ زونز بن چکی ہیں۔ اس لیے صیہونی ریاست کو حقیقی اور مؤثر زمینی و دفاعی دباؤ میں لانے کا واحد فعال میدان صرف شام کی سرزمین ہی فراہم کر سکتی ہے۔

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے باقاعدہ وجود سے قبل بھی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے خطے میں اسرائیل اور امارات کے منفی اثر و رسوخ کے خلاف عملی حکمتِ عملی ترتیب دے رکھی تھی۔ اس سلسلے میں پاکستان اور ترکیہ کے سوڈان، لیبیا اور صومالیہ کے ساتھ طے پانے والے دفاعی معاہدات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، جہاں پاکستان اور ترکیہ نے امارات و اسرائیل نواز ملیشیاؤں سے برسرِ پیکار باضابطہ فورسز کو جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، ہتھیار اور اعلیٰ فوجی تربیت فراہم کی، جبکہ سعودی عرب اور بعض معاملات میں قطر نے اس مشترکہ مہم کو بھرپور مالیاتی و لاجسٹک تعاون مہیا کیا۔ اب اسی کامیاب تثلیثی ماڈل کو شام کے محاذ پر باقاعدہ اسٹریٹجک انداز میں نافذ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

شامی وزیر خارجہ کے دورے کے تناظر میں یہ قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اور شام کے درمیان بھی ایک ہمہ جہت دفاعی معاہدہ طے پائے گا، جس کے تحت شامی مسلح افواج کی ازسرِ نو تنظیم، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی بحالی، جدید کمانڈو تربیت اور پاکستانی ساختہ ہتھیاروں و الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کی شام میں مشترکہ دفاعی موجودگی اسرائیل کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرے گی کیونکہ تل ابیب کو پہلی مرتبہ غیر منظم یا نیم عسکری گروہوں اور پسماندہ افواج کے بجائے ایک جدید، باقاعدہ اور جنگ آزمودہ فوج سے واسطہ پڑے گا۔ مزید برآں، مسلم دنیا کی واحد جوہری قوت ہونے کے ناطے شام کے دفاعی فریم ورک کی پشت پر پاکستان کی موجودگی اسرائیل کے ایٹمی بلیک میلنگ کے روایتی خطرے اور “سیمسن آپشن” کی بلیک میلنگ کو بھی مکمل طور پر بے اثر (Neutralize) کر دے گی۔

اگرچہ تکنیکی میدان میں فی الوقت اسرائیلی فضائیہ کو امریکی ساختہ پانچویں جنریشن کے اسٹیلتھ طیاروں F-35 کی بدولت پاکستان اور ترکیہ پر ایک وقتی برتری حاصل ہے، لیکن پاکستان نے جس دور مار اور نیٹ ورک سینٹرک “کل چین سسٹم” کا کامیاب مظاہرہ آپریشن سندور میں بھارت کے خلاف کیا تھا، وہ اسرائیل کی اسٹیلتھ صلاحیتوں کو بڑی حد تک چیلنج کرنے اور اس کے فضائی ڈاکٹرائن کے پرخچے اڑانے کی بڑی حد تک صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر محاذ آرائی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ 5th جنریشن اسٹیلتھ فائٹر J-35 اور دنیا کے جدید ترین ائیربورن ارلی وارننگ طیارے KJ-500 کے حصول کی کوششیں غیر معمولی تیز ہو جائیں گی، جس کے مالیاتی اخراجات میں “مکہ بلاک” کے خلیجی اتحادی بھی شریک ہونگے، جس کے بعد اسرائیل کو خطے میں حاصل آخری فضائی برتری بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

تاریخی طور پر بھی پاکستان اور شام کے دفاعی تعلقات ایک درخشاں ماضی کے امین ہیں جن کا آغاز ستر کی دہائی میں ہوا تھا۔ 1973 کی جنگِ رمضان میں پاک فضائیہ کے بہادر پائلٹوں (خصوصاً فلائٹ لیفٹیننٹ ستار علوی) نے شامی فضائیہ کی جانب سے لڑتے ہوئے اسرائیلی جنگی طیاروں کو فضا میں تباہ کر کے تاریخ رقم کی تھی۔ البتہ بعد ازاں سرد جنگ کی سیاست میں سوویت یونین کے ایما پر شامی پالیسیوں میں تبدیلی اور دہشت گرد تنظیم ‘الذوالفقار’ کے عناصر کو سابق شامی رجیم کی جانب سے پناہ دیے جانے کے باعث دونوں برادر ممالک کے تعلقات ایک طویل عرصے تک تلخی اور جمود کا شکار رہے۔ تاہم، حالیہ عوامی تحریک کے نتیجے میں سابق رجیم کے خاتمے اور نئی قیادت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہ تمام تلخیاں دور ہو چکی ہیں اور دونوں برادر ممالک ایک نئے عسکری و اسٹریٹجک افق پر باہم متحد ہو رہے ہیں۔

غرض کہا جا سکتا ہے کہ شامی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ محض خیر سگالی کا سفر نہیں بلکہ ایک نئے جغرافیائی اور تزویراتی ورلڈ آرڈر کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور شام کا ابھرتا ہوا دفاعی تعاون مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے قائم صیہونی و مغربی اجارہ داری کا تدارک کرتے ہوئے خطے میں طاقت کے ایک پائیدار اور منصفانہ توازن کی بنیاد رکھنے کی جانب کامزن دیکھائی دیتا ہے، جو بلاشبہ اسرائیل اور اس کے حواریوں کے لیے ایک سنگین تزویراتی خطرے کی گھنٹی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *