“اسلامی جمہوریہ پاکستان” کا المیہ یہ ہے کہ اس میں اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی سیاسیات کی الف بے سے آگاہی نہیں ہے۔ یہاں اکثر لوگ “ریاست” کی اصطلاح حکومت یا کسی ایک محکمے کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ مذہبی طبقات “اولی الامر” برسرِاقتدار فرد یا مقتدر ادارے کو قرار دے کر اس کی اندھی تقلید کو دینی ضرورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ علمِ سیاسیات اور شعوری مطالعے کی روشنی میں یہ دونوں چیزیں اپنی اصل میں بالکل غلط اور گمراہ کن ہیں۔

جب ہم “اسلام اور جمہوریت” کی اصطلاحات کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں، تو اس کا سیدھا اور واضح مطلب ایک ایسا ملک ہے جس کی اساس اور نظریاتی بنیادیں اسلامی اصولوں پر استوار ہوں، لیکن اس کا ریاستی اور انتظامی نظام جمہوری ہو۔ اسلام کا سیاسی نظام کسی خاص دور کی مخصوص ہیت میں قید نہیں بلکہ یہ اپنے اندر ارتقاء کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ریاست دراصل ایک جغرافیائی، قانونی اور سماجی وحدت کا نام ہے، جس میں حکومت محض ایک عارضی انتظامی ڈھانچہ ہوتی ہے، اور محکمے اس ڈھانچے کے ماتحت پرزے ہوتے ہیں۔ ریاست کو حکومت یا محکموں تک محدود کر دینا دراصل ریاستی تصور کی ہی نفی ہے۔ اسی طرح، اولی الامر سے مراد کوئی مطلق العنان شخص یا ادارہ نہیں جو قانون سے بالاتر ہو کر غیر مشروط اطاعت کا تقاضا کرے، بلکہ یہ وہ نظامِ عدل و انتظام ہے جو خود قانون کا پابند ہو۔
اگر ہم اسلام کے ابتدائی دور کی سیاسی تشکیل اور ریاستی خدوخال پر غور کریں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کی براہِ راست بیعت عموماً قبائلی سرداروں یا عمائدین کی وساطت سے ہوا کرتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ اس وقت کی سماجی بُنت تھی جو مکمل طور پر قبائلی بنیادوں پر استوار تھی۔ ریاست کے شہری انفرادی حیثیت کے بجائے اپنے اپنے قبائل کے ذریعے ریاست سے منسلک ہوتے تھے۔ سردار کی بیعت پورے قبیلے کی بیعت تصور کی جاتی تھی، اور یہ اس دور کے معروضی حالات میں بہترین اور قابلِ عمل سیاسی نظام تھا۔
تاہم، دنیا میں آنے والی بڑی سماجی تبدیلیوں، بالخصوص گزشتہ دو صدیوں کے دوران صنعتی ترقی اور شہری آباد کاری (Urbanization) کے وسیع رجحان نے اس روایتی قبائلی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ، تعلیم کے فروغ اور معاشی نظام کی پیچیدگیوں نے فرد کو قبیلے کی محدود شناخت سے نکال کر ریاست کے ایک آزاد اور براہِ راست شہری (Citizen) کے طور پر کھڑا کر دیا ہے۔ آج کے اس دور میں قبائلی سرداروں کے ذریعے خلیفہ یا سربراہِ مملکت کی بیعت کا تصور مکمل طور پر فرسودہ اور ناقابلِ عمل ہو چکا ہے، کیونکہ وہ سماجی اکائیاں ہی باقی نہیں رہیں جن پر یہ نظام کھڑا تھا۔
چنانچہ، ایک جدید جمہوری ریاست اب قبائل یا گروہوں کے بجائے عوام کے براہِ راست اشتراک سے وجود میں آتی ہے۔ اس اجتماعی عوامی اشتراک اور رضامندی کو جدید سیاسیات کی زبان میں “معاہدہِ عمرانی” (Social Contract) کہا جاتا ہے۔ اس عمرانی معاہدے کے تحت، اصولاً قبائلی سرداروں کی جگہ عوام کے اپنے ووٹوں سے منتخب کردہ نمائندے پارلیمان کی صورت میں اکٹھے ہوتے ہیں اور مل کر حکومت کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ نمائندے عوام کی اجتماعی دانش اور منشا کے امین ہوتے ہیں، نہ کہ کسی موروثی یا ادارہ جاتی طاقت کے مظہر۔
لہٰذا، اس جدید ریاستی بندوبست میں اطاعت، وفاداری اور بیعت کا محور اب کوئی شخص، عہدیدار یا کوئی مخصوص محکمہ نہیں رہا، بلکہ موجودہ دور میں بیعت خالصتاً ملک کے آئین اور ریاست کی ہوتی ہے۔ آئین ہی وہ سپریم اور مقدس دستاویز ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان اس معاہدہِ عمرانی کو تحریری شکل دیتا ہے اور ہر فرد، ادارے اور محکمے کے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے۔ جب تک ہم ریاست کو محض حکومتوں یا محکموں کی جاگیر سمجھنے اور شخصیات یا اداروں کی اندھی عقیدت کو دین قرار دینے کے اس فکری مغالطے سے باہر نہیں نکلیں گے، ہم بحیثیت قوم ایک جدید، مستحکم اور حقیقی اسلامی جمہوریہ کی تشکیل میں ناکام رہیں گے۔
یہاں یہ فکری اور اصولی حقیقت سمجھنا بھی ناگزیر ہے کہ جدید جمہوری معاشرے میں ملک اور ریاست سے وفاداری کا واحد پیمانہ اور انحصار دراصل آئین سے وفاداری پر ہوتا ہے۔ جب ریاست ایک معاہدہِ عمرانی کے تحت قائم ہوتی ہے، تو آئین ہی اس معاہدے کی بنیادی سند، ریاستی اداروں کی قانونی حیثیت کا سرچشمہ اور قومی وحدت کا ضامن بنتا ہے۔ اس لیے حب الوطنی اور وفاداری کی تعریف کسی حکمران، فرد یا ریاستی محکمے کی خوشنودی یا اطاعت سے طے نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کا معیار یہ ہے کہ کون اس آئینی میثاق کا کتنا پاسدار ہے۔ اسی طرح بغاوت کا حقیقی اور بے لاگ معیار بھی آئین سے بغاوت، اسے معطل کرنا، اس کے دائرہ کار سے تجاوز کرنا یا اسے اپنے مفادات کے تحت پسِ پشت ڈالنا ہے۔ جب آئین کو معطل یا پامال کیا جاتا ہے، تو دراصل ریاست کی اخلاقی، قانونی اور سماجی بنیادوں پر کاری ضرب لگائی جاتی ہے۔ لہٰذا، جو آئین کا وفادار ہے وہی ریاست کا سچا وفادار ہے، اور جو آئین کو پامال یا ثانوی حیثیت دیتا ہے، وہی درحقیقت ریاست اور قوم کے ساتھ غداری و بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے۔