اشرافیہ کے کرتوت اور پاکستان کا مستقبل

مجھے اپنی زندگی میں پہلی بار پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک گہرا اور حقیقی خوف محسوس ہو رہا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ اس دھرتی میں پوٹینشل، وسائل یا صلاحیت کی کوئی کمی ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ اس ملک پر مسلط “اشرافیہ” خود اس ریاست کی بنیادیں کھودنے اور اسے تباہ کرنے کے درپے ہے۔ دائمی حکمران طبقے کا نوآبادیاتی عہد کی طرح پاکستان کے ساتھ رشتہ محض استحصال اور لوٹ مار کا ہے۔ ان کا کوئی وجودی مفاد اس مٹی کے ساتھ جڑا ہی نہیں۔

ان کی شادیاں ملک سے باہر ہوتی ہیں، بچے باہر پیدا ہوتے ہیں، تعلیم یا تو مٹھی بھر ایلیٹ تعلیمی اداروں سے لیتے ہیں یا اس کے لیے بھ سیدھے مغرب کا رخ کرتے ہیں، اور اعلیٰ تعلیم تو لازماً بیرونی یونیورسٹیوں سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ اپنا علاج تو درکنار، معمول کا طبی معائنہ کرانے کے لیے بھی باہر کے ہسپتالوں کا رخ کیا جاتا ہے، ان کا سارا زور اس پر ہوتا ہے کہ ان غیر ملکی دوروں کے اخراجات سرکاری خزانے سے کیسے اینٹھے جائیں۔ جب ان کی صحت اور بقا باہر محفوظ ہے تو انہیں مقامی ہسپتالوں کی بہتری میں خاک دلچسپی ہوگی۔
بیک وقت اپنے پورے خاندان بشمول والدین تک کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ اور اہلخانہ کی غیر ملکی شہریت یا مستقل قیام (PR) پکی رکھتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مستقل ٹھکانہ بھی باہر ہی ہوتا ہے؛ پاکستان تو ان کے لیے محض شکار کھیلنے، اقتدار کے مزے لوٹنے، پروٹوکول انجوائے کرنے اور تجوریاں بھرنے کا ایک عارضی پڑاؤ ہے۔

اسی اشرافیہ نے ملک کے اندر IPPs کی کیپیسٹی پیمنٹس اور RLNG جیسے خون چوسنے والے معاہدے مسلط کر رکھے ہیں، جو درحقیقت انہی کی اپنی کمپنیوں اور کاروباری مفادات کا جال ہیں، جہاں بغیر کام کیے اور بغیر بجلی بنائے سالانہ اربوں ڈالر سرکاری خزانے سے چوسے جاتے ہیں۔

شاہ خرچیوں کا عالم یہ ہے کہ سترہویں گریڈ کا ایک ڈی ایم جی یا پولیس افسر چھ کروڑ کی گاڑی میں دو ویگو ڈالوں کے پروٹوکول کے ساتھ دندناتا ہے، جس کے گھر اور دفتر کے درمیان روزانہ کے سفر کے اخراجات ہی پچاس ہزار سے اوپر پلے جاتے ہیں۔ وزرا اور بڑے افسران کے پروٹوکول پر ماہانہ کروڑوں روپے قوم کے خون پسینے سے پھونکے جا رہے ہیں۔
باقی چند محکموں کے اللے تللوں پر بات کرنا ہی ملک سے غداری قرار پاتی ہے۔

اربوں روپے کے لگژری جہاز ہر اہم سرکاری محکمے کی خدمت میں کھڑے ہیں۔ اس شاہانہ عیاشی کا سارا بوجھ پورا کرنے کے لیے عوام پر پٹرولیم لیوی اور بجلی، گیس کے بلوں پر ظالمانہ ٹیکسوں کے علاوہ بنیادی اشیائے ضروریہ پر سیلز ٹیکس کی صورت میں لادے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف عام آدمی کی حالت یہ ہے کہ 70CC موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانا ایک عیاشی بن چکا ہے.بجلی و گیس کا بل کسی بھیانک ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شدید ہیٹ ویو میں مڈل کلاس کا تنخواہ دار پنکھا چلا کر، بل کے خوف سے پسینے میں شرابور رہتا ہے۔ سرکار چالیس ہزار ماہانہ آمدن پر انکم ٹیکس کاٹ لیتی ہے، حالانکہ اتنی آمدن میں ان کے ایک کُتے یا بلی کی خوراک نہیں آتی ہے۔ عام آدمی کا موٹر سائیکل پر گھر سے دفتر کا ایندھن ہی دس ہزار کھا جاتا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ اس سے بھی زیادہ کمر توڑ ہے۔ اس قلیل رقم میں ایک کنبے کے لیے آٹا، دال اور سبزی جیسی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، سرکاری ہسپتال اور اسکول تباہی کا الگ نوحہ ہیں۔

بڑھتی مہنگائی نے نچلے درجے کے کاروبار مکمل برباد کر دیے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار چلتا نظر آئے تو درجنوں سرکاری محکمے اپنا اپنا بھتہ وصول کرنے گدھوں کی طرح پہنچ جاتے ہیں اور جس قدر ممکن ہو اسے نچوڑ لیتے ہیں۔

کسی بھی سرکاری دفتر، کچہری یا تھانے میں بغیر رشوت کے کام ہو جانے کا معجزہ بھی اب نہیں ہوتا۔
ستم ظریفی یہ کہ کسی بھی سرکاری محکمے بشمول پولیس، محکمہ مال یا عدالتی عملے کے خلاف شکایت کے لیے کوئی آزاد اور غیر جانبدار فورم ہی نہیں ہے؛ شکایت بھی انہی محکموں کے بڑے افسران کو “درخواست” دینی ہوتی ہے جن کی اپنی جیبیں اسی رشوت کے حصے سے بھری ہوتی ہیں۔

اقتدار کا کھیل ایسا ہے کہ کبھی RTS کے ذریعے حکومت بنائی جاتی ہے تو کبھی فارم 47 کے بل بوتے پر۔ سیاسی جماعتیں دراصل خاندانی جاگیریں ہیں جن کی عوامی مسائل میں دلچسپی صفر ہے۔ ان کے نزدیک سیاست اور پارلیمان میں پہنچنے کا واحد مقصد اپنے اور اپنے پورے خاندان بشمول والدین کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ حاصل کرنا، آئی پی پیز جیسا کوئی مستقل منافع بخش معاہدہ ہتھیا لینا، اپنے پلاٹوں کو کمرشل کرانا، اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے NOC نکلوانا، یا ایسے مخصوص قوانین بنوانا ہے جن سے ان کے ذاتی کاروبار راتوں رات چار گنا منافع دینے لگیں۔
اور یہ سب کچھ انگریزی محاورے “تم میری کمر کھجاؤ میں تمہاری” کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس سارے مک مکا کا نزلہ بلاخر عام آدمی پر گرتا ہے۔

اور اگر اس وحشت ناک استحصال کے خلاف کہیں عوامی غصہ یا احتجاج ابھرے، تو فوراً “حکومتی رٹ” کے خطرے میں پڑنے کا واویلا مچایا جاتا ہے اور اسے “ریاست کی عصمت” پر حملہ قرار دے کر پوری ریاستی مشینری کے ساتھ کچل دیا جاتا ہے۔

ہم نے بلاشبہ آپریشن بنیان مرصوص میں کمال مہارت سے بھارت کو دھول چٹائی، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں سے ہمارا سفارتی قد بھی بہت بلند ہوا ہے۔
مکہ معاہدے میں سکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر عالمی سطح پر ایک عظیم وقار بھی ملا ہے۔

لیکن ان تمام جغرافیائی اور تزویراتی نعروں سے عوام کے چولہے نہیں جلتے اور نہ ہی ان کی روزمرہ کی مشکلات تھمی ہیں۔ یہ ساری باتیں ایسی ہیں، جیسے بھوک کی شدت سے بلکتی ہوئی ایک معصوم بچی کو “خوبصورت نیلی آنکھوں والی ایک گڑیا” تھما دی جائے۔
ممکن ہے وہ چند لمحوں کے لیے مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگے، اس کے آنسوؤں سے تر رخساروں پر ایک لمحاتی مسکراہٹ بھی آ جائے، لیکن اس کھلونے سے اس کے پیٹ کی بھوک کبھی نہیں مٹ سکتی اور نہ ہی جسم کی فطری ضرورت پر یہ مصنوعی خوشی دیر تک حاوی رہ سکتی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے آغاز پر جنرل آصف غفور نے چھ ماہ تک “مثبت رپورٹنگ” کا فرمان جاری کیا تھا، اور اب موجودہ سیٹ اپ کو چلتے ہوئے بھی چار سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔

آخر کب تک “سب اچھا ہے” کے راگ اور “اچھے دن آنے والے ہیں” کے لالی پاپ پر صبر کیا جا سکتا ہے؟
اگر اس دلدل سے نکلنے کا کوئی واضح لائحہ عمل اور حقیقی ٹائم فریم پالیسی سازوں کے پاس ہے تو مہربانی فرما کر سامنے لائیں،
ورنہ انتظامی یونٹس کر تجربہ کریں یا نئے صوبوں کا۔ موجودہ بیروکریسی اور نظام کے ہوتے ہوئے، بس یہ یاد رکھیں کہ بیری کے درخت پر آم کبھی نہیں آئیں گے۔
اور دیوار پر لکھی تباہی صاف پڑھی جا رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *