اسلامی سیاسی نظام کی اساس اور ناکامی کی وجوہات

ہمارے ہاں عموماً خلافتِ راشدہ کی ملوکیت (بادشاہت) میں تبدیلی کو صرف شرعی نقطہ نظر سے حلال و حرام یا جائز و ناجائز کے دائرے میں بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ اصل ضرورت اس گہری سیاسی تبدیلی کا عمرانی و سماجی مطالعہ (Sociological Study) کرنے کی ہے، کیونکہ اس کے بغیر خلافت کے احیا یا نشاۃ ثانیہ کی کوئی بھی کوشش درست سمت اختیار نہیں کر سکتی۔

واضع رہے کہ ملوکیت اگرچہ بذاتِ خود اسلام میں ناجائز یا حرام نہیں، مگر یہ ہرگز اسلام کا مطلوبہ اور مثالی نظام نہیں ہے۔ خلافت راشدہ کا ملوکیت میں تبدیلی کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ اس نے اسلامی معاشرے کا سماجی تار پود (Social Fabric) بُری طرح بکھیر کر رکھ دیا۔ اگرچہ قرونِ اولیٰ میں گہرا دینی جذبہ موجود تھا، اس کے باوجود اس تبدیلی کے معاشرتی نقصانات فوری طور کھل کر سامنے آنے لگے، جنہوں نے آگے چل کر اسلامی تہذیب کی مضبوط بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ آئیے چند اہم واقعات کا مختصرا جائزہ لیتے ہیں۔

اسلام نے عربوں کے جس قبائلی تعصب کو ختم کر کے انہیں ایک برادری بنایا تھا، ملوکیت آتے ہی وہی عصبیت دوبارہ پوری شدت سے جاگ اٹھی۔ اس کشمکش کا آغاز بنو امیہ اور بنو ہاشم کے اختلاف سے ہوا، پھر یہ مضری اور حمیری قبائل تک پھیلا اور بالآخر عرب و عجم کے خطرناک تعصب کی شکل اختیار کر گیا۔

یہ محض اتفاق تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامی زیادہ تر عراق اور فارس میں تھے، جبکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حامی شام اور فلسطین کے علاقوں میں مقیم تھے۔ جس کی وجہ شعیان علی اور شعیان معاویہ کی آویزش کو عرب و عجم تعصب کا تڑکا بھی لگا، جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہے۔

بعد ازاں اقتدار پانے کے بعد بنو امیہ نے کھل کر عرب نوازی کی پالیسی اپنائی، جس کے ردعمل میں عجمیوں کے اندر ’شعوبیت‘ یعنی عرب دشمنی کی تحریک اٹھی۔ اسی فکری انتشار کے راستے الحاد، فلسفے کی کج بحثیوں اور گمراہ فرقوں نے جنم لیا۔ اہل بیت کے حقِ حاکمیت کے نعرے کو ہوا ملی، جس نے نہ صرف بنو امیہ کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد جب حکومت بنو عباس کو مل گئی تو اُن کے جبر و تشدد نے باطنیت اور تشیع کے ایسے رجحانات کو پروان چڑھایا جو رفتہ رفتہ متوازی مذاہب کی صورت اختیار کر گئے۔

خلافتِ راشدہ کے شورائیت پر قائم نظام کے خاتمے کے بعد سب سے بڑی الجھن نئے خلیفہ کے انتخاب میں پیدا ہوئی۔ ڈھائی سالہ اقتدار کے بعد جب یزید کی موت ہوئی اور اس کے بیٹے نے حکومت سنبھالنے سے انکار کیا، تو اس سیاسی خلا نے خود امویوں کے اندر پھوٹ ڈال دی۔
مروان بن حکم نے خالد بن یزید اور عمرو بن سعید بن العاص کو اپنے بعد ولی عہد بنانے کے معاہدے پر حکومت حاصل کی تھی۔ مگر ’مرج راہط‘ کی جنگ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو شکست دینے کے بعد وہ اپنے عہد سے پھر گیا۔ اس نے سابقہ نامزدگیوں کو رد کر کے اپنے دو بیٹوں عبدالملک اور عبدالعزیز کو یکے بعد دیگرے جانشین بنا دیا۔
پھر جب اقتدار عبدالملک کے پاس آیا تو اُس نے اپنے بھائی کو ولی عہدی سے ہٹا دیا، اور اپنے دو بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد نامزد کر دیا، جس سے اموی خاندان کا داخلی اتحاد بھی پارہ پارہ ہو گیا۔

بنو امیہ نے جب اقتدار کو اپنی ہی اولاد میں محدود کر دیا تو معاشرے کے بااثر طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے مملکت میں جاگیرداری کو فروغ دیا گیا۔ مفتوحہ علاقوں میں عرب خاندانوں کے سرداروں اور با اثر افراد کو بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں، جن میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی نو مسلموں کو غلامی کی ہی ایک شکل یعنی ’موالی‘ کے طور پر رکھا جاتا تھا۔
اس عرب جاگیرداری نظام نے مساوات پر مبنی اسلامی معاشرتی نظام میں ایک گہری طبقاتی خلیج پیدا کر دی، مفتوع خطوں کے مقامی نو مسلم یہ محسوس کرنے لگے کہ کلمہ پڑھنے کے باوجود انہیں عربوں کے برابر مقام حاصل نہیں۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس غیر منصفانہ جاگیرداری نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی تو مفاد پرست اشرافیہ ان کی جان کے درپے ہو گئی اور بالاخر انہیں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

ایک دوسرے پہلو سے جائزہ لیا جائے تو، عبدالملک بن مروان کے دور میں جب داخلی امن بحال ہوا تو فتوحات کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا۔ اس عہد میں تین عرب جرنیلوں نے حیرت انگیز عسکری قابلیت کا مظاہرہ کیا۔ قتیبہ بن مسلم نے وسطی ایشیا کے علاقے بخارا، سمرقند، خیوہ اور کاشغر فتح کیے، محمد بن قاسم نے سندھ کو اسلامی قلمرو میں شامل کیا، ہندوستان کے اندر پنجاب اور راجستان کی طرح پیش قدمی کی، ساتھ ہی مکمل امن قائم کر دیا۔ موسیٰ بن نصیر و طارق بن زیاد نے اسپین اور پرتگال تک اسلام کا پرچم لہرایا۔
یہ سپہ سالار ان عظیم فتوہات کی وجہ سے عالمِ اسلام کے ہیرو بن گئے تھے۔ ولید کی موت کے بعد جب سلیمان بن عبدالملک برسرِ اقتدار آیا تو وہ ان جرنیلوں کی بے پناہ مقبولیت سے خوفزدہ ہو گیا۔ اس کے دور میں یہ تمام عظیم فاتحین انتہائی المناک اور افسوسناک انجام کا شکار ہوئے۔ ایسی صورتحال بن گئی کہ عربوں کے اندر عسکری قیادت کا جذبہ ہی ماند پڑ گیا۔ اس کے بعد تاریخ میں کوئی ایک بھی بڑا عرب جرنیل ابھر کر سامنے نہ آیا۔

سن 661 عیسوی میں شروع ہونے والی بنو امیہ کی حکومت نوے برس بعد 750 عیسوی میں دریائے زاب کے معرکے میں مروان ثانی کی شکست کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ تب امویوں پر ناقابلِ بیان مظالم ڈھائے گئے۔ دمشق پر قبضے کے بعد عباسیوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت اموی خلفا کی قبریں کھود ڈالیں۔ ہشام بن عبدالملک کی لاش قبر سے نکال کر کوڑوں سے پیٹی گئی اور کئی روز سرِعام لٹکانے کے بعد جلا دی گئی۔ بنو امیہ کی عورتوں اور بچوں پر بھی کوئی ترس نہ کھایا گیا اور اموی عمائدین کی تڑپتی لاشوں پر دسترخوان بچھا کر جشن منائے گئے۔ لیکن تین براعظموں پر پھیلی اس سلطنت میں کہیں بھی امویوں کے حق میں کوئی قابلِ ذکر مزاحمت تو درکنار، کوئی صدائے احتجاج تک نہ سُنائی دی۔

امویوں کے خاتمے کے بعد پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس نے تخت سنبھالتے ہی اپنی حکومت جمانے کے لیے اس قدر خون بہایا کہ وہ ’سفاح‘ یعنی خونخوار کے لقب سے مشہور ہوا۔ اس نے اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی نہ بخشا؛ عباسی تحریک کے پہلے وزیر ابو سلمہ اور امویوں کا تختہ الٹنے والے ابو مسلم خراسانی دونوں کو دھوکے سے قتل کرا دیا۔
عباسیوں کو عربوں اور فارسیوں دونوں پر بھروسا نہیں تھا، اس لیے انہوں نے ترک غلاموں کے فوجی دستے تیار کیے۔ بعد میں انہی فوجیوں کی بغاوتیں روز کا معمول بن گئیں اور امت کا سیاسی شیرازہ بکھر کر متوازی حکومتوں میں تقسیم ہو گیا۔

خلافت کے ملوکیت میں ڈھلنے سے نہ صرف معاشرہ انحطاط پذیر ہوا بلکہ اقتدار کی ہوس نے دینی اقدار کو بھی پامال کر دیا۔ ابو العباس السفاح کو بدترین خون ریزی کے بعد محض تین سال کا اقتدار نصیب ہوا۔ مرنے سے پہلے اُس نے بھی امویوں کے طریقے پر اپنے بھائی ابوجعفر منصور اور بھتیجے عیسیٰ بن موسیٰ کو یکے بعد دیگرے ولی عہد بنا دیا۔

ابوجعفر منصور 754 عیسوی میں تخت نشین ہوا۔ وہ ایک گہرے احساسِ کمتری میں مبتلا تھا۔ اس کی ماں سلامہ نامی ایک بربر لونڈی تھی، جس کی وجہ سے عرب برتری کے اس معاشرے میں اسے حقارت سے دیکھا جاتا تھا اور نامناسب القابات دیے جاتے تھے۔ جس سے اُس وقت کے معاشرے کی ایک تصویر نمایاں ہوتی ہے۔ اقتدار پانے کے بعد بھی منصور کو ہر وقت اپنے خلاف بغاوتوں کا ڈر لگا رہتا تھا۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت تھی کہ عباسیوں نے اموی اقتدار کے خلاف تحریک اہل بیت کے حق کے نام پر شروع کی تھی۔ ابن حزم کے مطابق اموی دور کے اختتام پر مدینہ منورہ میں خاندان بنو ہاشم کے اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ اموی اقتدار کے خلاف بغاوت کی کامیابی کی صورت میں “محمد نفس الزکیہ” خلیفہ بنائے جائیں گے۔ اس فیصلے کی تائید کرنے والوں میں السفاح اور منصور خود بھی شریک تھے، جبکہ اہل مدینہ کے معززیں نے اس کی توثیق کی تھی۔
مگر اقتدار ملتے ہی بنو امیہ کی طرح ہی بنو عباس بھی اپنے عہد سے پھر گئے اور السفاح نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ حضرت امام حسن رضی اللہ کے پڑ پوتے محمد نفس الزکیہ نے اسفاح کی بیعت سے انکار کر دیا۔ اہل مدینہ بھی اپنے پرانے فیصلے پر قائم رہے، البتہ السفاح نے مصلحت سے کام لیتے ہوئے انہیں نئی حکومت کے خلاف خروج سے روکے رکھا۔

لیکن اس کے مرنے کے بعد منصور نے تخت پر بیٹھتے ہی مدینہ کے گورنروں کو نفس الزکیہ کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے۔ جب پے در پے کئی گورنر گرفتاری میں ناکام رہے تو مرکز سے رباح بن منصور کو مدینہ بھیجا گیا۔ جس نے نفس الزکیہ کے بزرگ والد اور قریبی عزیزوں کو قید کر کے دارلحکومت بغداد بھیج دیا۔ جب نفس الزکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم قابو نہ آئے تو حاکم نے ان کے خاندان کے معزز افراد کو قتل کرنا شروع کر دیا، جن میں ان کے چچا عباس بن حسن، ابراہیم بن حسن اور چچازاد بھائی محمد بن ابراہیم شامل تھے۔
علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ منصور نے محض شک کی بنیاد پر سادات کی نسل کشی شروع کر دی۔ محمد بن ابراہیم جو اپنے غیر معمولی حسن کی وجہ سے ’دیباج‘ کہلاتے تھے، انہیں زندہ دیوار میں چنوا دیا گیا، اور یہ ایسی دلدوز سختیاں اور زیادتیاں کی گئیں، جن کو بیان کرنے کے سے زبان اور قلم عاجز ہیں۔

اس دور میں روپوش نفس الزکیہ اور خلفیہ منصور کے درمیان مسلسل خط و کتابت ہوتی رہی تھی۔ تاریخ کی کُتب میں محفوظ وہ خطوط خاندانی فخر، طعنوں اور نسبی برتری کے دعووں سے بھرے ہوے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام میں خلافت کا وراثتی ہونا طے ہے۔ جھگڑا صرف اس بات پر ہے کہ نبی﷽ کے بعد خلافت کی اصل حقدار چچا کی اولاد ہے یا بیٹی کی اولاد۔ عام مسلمان کا اقتدار سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

اسی کشمکش کے دوران منصور نے اہل مدینہ سے جبرا یہ حلف لیا کہ اگر انہوں نے نفس الزکیہ کا ساتھ دیا، تو ان کی بیویوں پر طلاقِ مغلظہ واقع ہو جائے گی۔ جس پر امام مالک رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ “دباؤ اور جبر کے نتیجے میں اس طرح سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ منصور نے اس فتوے کو حکومت کے خلاف بغاوت قرار دیا۔ وقت کے امام کو دربار میں بلا کر ستر کوڑے مروائے گئے، ان کے ہاتھ اس بے دردی سے کھینچے گئے کہ بازو کندھے سے اتر گیا، چہرے پر کالک مل کر اونٹ پر بیچھے کی طرف منہ کر کے بٹھایا گیا، اور اس حالت میں اُنہیں مدینہ کی گلیوں میں گھمایا گیا۔ تاکہ لوگوں کو عبرت ہو کہ خلیفہ کی منشا کے خلاف دین کا حکم بیان کرنے کا بھی انجام کیا ہوتا ہے۔
امام اس تکلیف دہ حالت میں بھی پکارتے جاتے تھے کہ “جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے، جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں مالک بن انسؒ ہوں اور میرا یہ فتویٰ ہے کہ زبردستی لی گئی طلاق باطل ہے۔

اسی منصور نے ایک بار پھر بنو امیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اپنے بھتیجے عیسیٰ بن موسیٰ کو ولی عہدی سے ہٹا کر اپنے بیٹے مہدی کو جانشین بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک خطرناک چال چلی۔ اپنے سگے چچا عبداللہ بن علی کو عیسیٰ کے حوالے کیا اور چپکے سے پیغام بھجوایا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ سازش یہ تھی کہ عبداللہ بن علی کے قتل کے بعد قصاص میں عیسیٰ کو راستے سے ہٹایا جا سکے۔ عیسیٰ کو اس سازش کی بھنک مل گئی۔ اس نے چچا کو قتل کرنے کے بجائے خفیہ قید میں رکھ دیا، جبکہ خلیفہ کو پیغام بھجوایا کہ کام ہو گیا ہے۔
منصور نے منصوبے کے مطابق عیسیٰ کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کر دیا، جب قاضی نے چچا کے قتل کے الزام میں عیسیٰ کی سزائے موت کا حکم سنایا، تو اس کے اشارے پر عبداللہ بن علی کو زندہ قاضی کے سامنے لا کھڑا کر دیا گیا۔ عیسیٰ کی جان قتل کے مقدمے میں تو بچ گئی، مگر منصور نے حکم عدولی پر اُسے ولی عہدی سے بے دخل کر دیا اور اپنے بیٹے مہدی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔

ایسی ہی محلاتی سازشیں اور اقتدار کی رسہ کشی بعد کے ادوار میں مستقل روایت بن گئیں، جس نے مسلم ریاست کے ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ کوئی مضبوط اور اجتماعی سیاسی نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے حکومتیں عوامی بنیادوں سے محروم ہو گئیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی سلطنت بیرونی حملہ آوروں کے سامنے ڈھیر ہوگئیں۔ خواہ وہ تاتاری ہوں یا صلیبی۔
پھر جب سولہویں صدی میں یورپی طاقتوں نے مسلم علاقوں پر پیش قدمی شروع کی تو یہ تمام ریاستی ڈھانچے ایک بار پھر ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ لاکھوں مربع میل پر پھیلی سلطنتیں اور کروڑوں کی آبادیاں، جو پورے براعظم یورپ کی مجموعی آبادی سے بھی کہیں زیادہ تھی، اپنے اندرونی انتشار اور اخلاقی کمزوری کی وجہ سے حملہ آوروں کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔

اس سارے قصے کا مقصود یہ سمجھانا ہے کہ خلافتِ راشدہ کا اصل حسن خلفاء کی فضیلت اور ذاتی پارسائی میں نہیں ہے۔ اُس قوت شورائی نظام اور عوامی شمولیت میں تھی۔ جس نے پورے معاشرے کو ظلم، جبر اور خاندانی اجارہ داری سے آزاد کر کے ایک متوازن سماجی وحدت میں پرو دیا تھا۔ جب یہ بنیاد ڈھے گئی اور اس کی جگہ خاندانی ملوکیت، عصبیت اور جبر نے لے لی، تو ریاست کا رشتہ عوام سے کٹ گیا۔
آج اگر مسلم دنیا زوال کے گرداب سے نکل کر اپنے اصل تشخص کو بحال کرنا چاہتی ہے، تو روایتی فقہی اور کلامی بحثوں سے آگے بڑھ کر خلافت کو ایک زندہ، منصفانہ اور ادارہ جاتی سیاسی نظام کے طور پر سمجھنا ہو گا۔
جب تک شخصی اقتدار، طبقاتی بالادستی اور جبری اطاعت کے بت نہیں ٹوٹیں گے اور اقتدار کو حقیقی معنوں میں اجتماعی امانت اور عوام کے آزادانہ مشورے سے وابستہ نہیں کیا جائے گا، تب تک حقیقی خلافت کے احیا کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہاں خلافت کے نام پر کوئی تھیوکریسی ضرور مسلط ہو سکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *