اکیسویں صدی کی اصل ٹریجڈی

گزشتہ روز خورشید ندیم صاحب کالم بعنوان “سید مودودی اور اکیسویں صدی کی ٹریجڈی” نظر سے گزارا۔ مجھے یہ تو علم نہیں کہ خوشید صاحب کی بطور چیئرمین رحمت اللعالمین اتھارٹی کی معیاد ختم ہونے پر اُنہیں ایکسٹینشن ملی ہے یا نہیں، البتہ آپ کی تحریر چھپے درد کو سمجھنا چنداں دشوار نہیں ہے۔

خورشید ندیم صاحب کے کالم کے ابتدائی پیرا گراف میں ہی ایک حیران کن اور خلافِ واقعہ دعویٰ دیکھنے کو ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ “سید مودودی کے فکر اور اندازِ تحریر، دونوں پر مولانا آزاد کے اثرات ہیں۔”
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان دونوں نابغہ روزگار شخصیات کے لٹریچر کا مطالعہ کر رکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ دونوں کا اندازِ تحریر ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریر ثقیل الفاظ، مشکل تراکیب، اور عربی و فارسی کے اشعار و محاورات سے لدی ہوتی ہے، جہاں عام قاری تو کجا سکالر کے لیے بھی معانی تک رسائی اکثر زبان کے طلسمات سے بنرد آزما ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، مولانا مودودیؒ کی نثر سادگی، سلاست، اور اردو روزمرہ کے عام فہم محاورے میں کسی پرسکون ندی کی طرح خاموشی سے بہتی ہے۔ جس کو معمولی خواندہ فرد بھی بغیر کسی قاموس کے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔ بظاہر کالم نگار نے یہ بے جوڑ تقابل محض اپنے ادھورے مقدمے میں غیر ضروری وزن پیدا کرنے کے لیے تراشا ہے۔

تاہم، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ صاحبِ تحریر اور ان کے استادِ محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے لیے مولانا مودودیؒ کی فکر واقعی ایک بہت بڑی ‘ٹریجڈی’ ہے۔ اور زیادہ دکھ یہ ہے کہ یہ حضرات اصل ٹریجڈی کو کھلے الفاظ میں بیان کرنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے، اس لیے غیر متعلقہ مغالطوں کو بنیاد بنا کر اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان صاحبان کی اصل ٹریجڈی کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔

جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے حصے بخرے کیے گئے۔ اس وقت مغربی طاقتوں کا یہ خیال تھا کہ سیاسی و تمدنی سرپرستی سے محروم ہونے کے بعد اسلام ‘معاشرے پر’ اپنا اثر اور نفوذ کھو دے گا، رفتہ رفتہ باقی مذاہب کی طرح چند مندروں، گرجوں یا مساجد کی ذاتی عبادات تک سمٹ کر بے اثر ہو جائے گا۔ مگر اسلام ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ سخت جان ثابت ہوا۔

اس کے بعد نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین کی شکست کے بعد کمیونزم جیسے حریف کا خاتمہ ہوا، تو مغرب نے اعلانیہ طور پر اسلام کو اپنا اصل دشمن قرار دیا۔ سیموئیل ہنٹنگٹن کی ‘تہذیبوں کے تصادم’ (Clash of Civilizations) جیسی تھیوریز سامنے لائی گئیں، میڈیا پر منظم اسلام دشمنی کو پروان چڑھا گیا، اور عالمی تھنک ٹینکس نے اسلام کو معاشرے میں بے ضرر اور غیر سیاسی بنانے کے لیے ہزاروں مقالے لکھے۔ اس سلسلے میں امریکی ‘رینڈ کارپوریشن’ کی تفصیلی رپورٹس کو عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی، جن میں کھلم کھلا یہ روڈ میپ دیا گیا کہ “مسلم دنیا کے اندر سے ہی ایسے افراد اور بیانیوں کو سامنے لایا جائے جو اسلام کے مکمل نظامِ حیات ہونے کے تصور کی بیخ کنی کریں۔”

اس پروجیکٹ کے لیے مسلم دنیا سے جن شخصیات کو منتخب کیا گیا۔ اُن میں پاکستان سے جناب جاوید احمد غامدی، ترکی سے فتح اللہ گولن، ہندوستان سے جناب وحید الدین خاں، اور عرب دنیا سے ربیع بن ہادی المدخلی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان حضرات کے مغربی ضروریات سے ہم آہنگ افکار کو عالمی سطح پر پروان چڑھانے کے لیے غیر معمولی وسائل لگائے گئے، انہیں مکمل حکومتی اور بین الاقوامی سرپرستی مہیا کی گئی، اور میڈیا کے ہر ابلاغی ذریعے کو ان کی ترویج پر مامور کیا گیا۔

لیکن عشروں کی اس منظم ریاضت اور بھاری سرمایہ کاری کے باوجود، ان کی جھولی میں چند مفاد پرستوں یا مغربی تہذیب سے مرعوب تیسرے درجے کے دانشوروں یا مٹھی بھر جدیدیت کی دلدادہ کلاس کے سوا کچھ نہ آ سکا۔ “مسلم معاشرے نے ان کے لبرل، غیر سیاسی اور بے ضرر اسلام کے تصور کو اس طرح قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس طرح سمندر کے وسط میں کوئی بحری جہاز کچرا پھینکے، اور سمندر اُس کچرے کو بالآخر ساحل پر اگل دیتا ہے”۔

موجودہ وقت میں ان حضرات کا اصل بحران یہ ہے کہ مغرب اور خاص طور پر امریکہ خود شدید فکری و معاشی تھکن کا شکار ہو کر اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ امدادی فنڈز اور یو ایس ایڈ کے منصوبوں میں کٹوتیاں، مشرقِ وسطیٰ سے امریکی انخلا، اور خارجہ پالیسیوں کی تیزی سے بدلتی ترجیحات نوشتہ دیوار بن چکی ہیں۔ ایسے حالات میں، اسلام کو دین سے محض ایک روایتی مذہب بنانے کا جو ٹھیکہ اٹھایا گیا تھا، اس کی مارکیٹ ویلیو تیزی سے گر رہی ہے۔ بھاری تنخواہوں، مراعات، پرتعیش لائف اسٹائل اور پروپیگنڈا پیکجز والی یہ دکانیں اب زیادہ دیر چلتی دکھائی نہیں دیتیں۔

یقیناً یہ صاحبان جب تنہائی میں کبھی اپنی فرد عمل کا جائزہ لیتے ہوں گے تو انہیں اپنی اس تاریخی ناکامی کے پیچھے سید مودودیؒ اور سید قطبؒ کی برپا کردہ فکر ایک چٹان بن کر کھڑی دکھائی دیتی ہو گی۔

اسی اندرونی مایوسی کے زیرِ اثر خورشید ندیم صاحب نے کالم میں چند ایسی باتیں گھڑنے کی کوشش کی جن کی حقیقت پر ایک نگاہ ڈالنا ضروری ہے:

خورشید ندیم صاحب نے کالم میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سید مودودیؒ نے سماج کے بجائے ریاست کو توجہ کا مرکز بنایا، جو ان کے نزدیک ایک ٹریجڈی ہے”۔
یہ صریحاً حقیقت کو مسخ کرنا ہے۔ سید مودودیؒ نے کبھی ریاست کو ذاتی اقتدار یا جبر کا ہدف نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام ایک مربوط نظام ہے جس میں فرد کا تزکیہ، معاشرے کی اصلاح، اور ریاست کا نظم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اسلام کو ریاست اور قانون سے بے دخل کر دیا جائے تو اس کے احکاماتِ عدل، معیشت اور انسانی حقوق پر عمل درآمد کسی طرح ممکن نہیں ہوگا۔ درحقیقت، ریاست کو سماج سے کاٹ کر پیش کرنا اسی مغربی، سیکولر ضرورت کا اظہار ہے جس کا مقصد دین کو محض انفرادی عبادات تک قید کر کے باقی تمام شعبہ ہائے زندگی کو باطل کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہے۔

فاضل کالم نگار نے مسلم ممالک میں انتہا پسندی اور خوں ریزی کا بوجھ سید مودودیؒ کے سر تھوپنے کی کوشش کی، جبکہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سید صاحب ووٹ، پرامن سیاسی جدوجہد اور آئینی راستے کے قائل تھے۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ کالم نگار اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلم معاشروں میں برپا ہونے والی بغاوتیں اور مایوسیاں ان ظالمانہ مغربی جنگوں، عراق و افغانستان پر چڑھائیوں، اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلط کردہ آمریتوں کا ردعمل ہیں جنہوں نے پرامن اصلاح کے تمام دروازے بند کیے؟ مغربی بربریت اور کٹھ پتلی آمریتوں کے مظالم سے آنکھیں چرا کر اس کا الزام مولانا مودودیؒ کے لٹریچر پر دھرنا علمی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔

کالم کے آخر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مولانا مودودیؒ کے اصل جانشین وہ لوگ (یعنی غامدی مکتبِ فکر) ہیں جو ان کی فکر کے ناقد ہیں۔
یعنی جو ‘مکتبِ فکر’ قرآن و سنت کے احکامات کو ریاستی دائرے سے بے دخل کرنے، اسلامی شریعت کو ایک لبرل اور بے ضرر فریم ورک میں سکیڑنے، اور استعماری بیانیے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو ‘اجتہاد’ کہتا ہو، ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سید مودودیؒ کی فکر کا تسلسل ہے۔
اُس سید مودودیؒ کا، جس نے اپنی تمام تر توانائیاں ‘حاکمیتِ الٰہیہ’ کے قیام اور باطل نظاموں کی فکری بنیادیں ہلانے میں صرف کیں، اس کی وراثت کا دعویٰ وہ لوگ کر رہے ہیں جن کا پورا فکری وجود ہی باطل کی بالادستی کے سائے میں پناہ لینے کا نام ہے۔

اکیسویں صدی کی اصل ٹریجڈی ان دانشوروں کا وجود ہے جنہوں نے اسلام کو مغربی سانچے میں ڈھالنے کا بیڑا اٹھایا، مگر امت کے ضمیر نے ان کے اس بے روح متبادل کو رد کر دیا۔ ان کی مایوسی کی چیخیں بتا رہی ہیں کہ سید مودودیؒ کا روشن کردہ چراغ آج بھی اسی قوت سے لو دے رہا ہے اور مصنوعی روشندانوں کے اندھیرے اسے چھپانے سے قاصر ہیں۔

#مہتاب_عزیز

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *