حوثیوں کے سعودی آئل ریفائنریز پر حملوں، بحیرہ احمر کی جھڑپوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جوابی کارروائیوں کے بعد یمن ایک بار پھر عالمی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ لیکن اس پیچیدہ خطے پر زیادہ تر عالمی اور بالخصوص ہمارے مقامی تجزیہ کار زمینی حقائق کا درست ادراک رکھنے میں یکسر ناکام ہیں۔
یمن کو محض سعودی نواز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت یا اس کے ماتحت صدارتی قیادت کونسل (PLC) اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا (انصار اللہ) کے درمیان کوئی سادہ دو رخی جنگ سمجھ لینا سطحی پن ہے۔ درحقیقت یہ تنازعہ نصف درجن سے زائد متصادم دھڑوں، قبائلی وفاداریوں اور علاقائی طاقتوں کا ایسا گورکھ دھندا ہے جس کی جڑیں صدیاں پرانی ہیں۔
صورتحال کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تاریخ میں جانا ضروری ہے۔ حوثی بنیادی طور پر زیدی شیعہ ہیں، جن کا فقہی اور فکری ڈھانچہ، ایران کے اثنا عشری شیعہ مسلک سے الگ اور روایتی طور پر فقہ حنفی کے زیادہ قریب مانا جاتا رہا ہے۔
شمالی یمن ہمیشہ سے زیدیہ کا مضبوط گڑھ رہا ہے جہاں صنعا اور صعدہ کے خطوں میں تقریباً گیارہ سو سال تک زیدی ائمہ کی حکومت قائم رہی۔ جبکہ جنوبی یمن کا بڑا مرکز عدن اور شافعی سنی اکثریتی آبادی پر مشتمل رہا جہاں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد ایک مارکسسٹ حکومت قائم ہوئی۔ 1990 میں جب شمالی اور جنوبی یمن کا باضابطہ انضمام ہوا تو جنرل علی عبد اللہ صالح نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی اور اگلے بائیس برس تک وہ سنگین تضادات سے بھری اس زمین پر ڈکٹیٹر شپ قائم رکھ کر قبائل اور مختلف دھڑوں کو آپس میں لڑا کر حکمرانی کرتے رہے۔
1990 کی پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر علی عبد اللہ صالح نے صدام حسین کے کویت پر حملے کی پہلے مخالفت نہ کی اور پھر عراقی مؤقف کی تائید کر دی۔ جس پربرہم ہو کر سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے لگ بھگ آٹھ سے دس لاکھ یمنی محنت کشوں کو راتوں رات ملک بدر کر دیا۔ اس معاشی زلزلے نے یمن کو غربت، افلاس اور بے روزگاری کے پاتال میں دھکیل دیا۔
اسی ابتر معاشی فضا میں ایران نے سیاسی خلا کو بھانپتے ہوئے صعدہ کے زیدی عالم بدر الدین الحوثی اور ان کے بیٹے حسین الحوثی کے ساتھ روابط بڑھائے، یمنی طلبہ کے لیے ایرانی جامعات کے دروازے کھولے گئے اور رفتہ رفتہ حوثی تحریک کو “الشباب المؤمن” جیسے صوفی فرقے سے ایک عسکری و سیاسی طاقت کی شکل دی گئی۔
دوسری جانب ریاستی بدعنوانی، معاشی بربادی اور قبائلی بے چینی میں القاعدہ جزیرہ نما عرب (AQAP) نے جنوبی اور مشرقی سنی علاقوں میں اپنی مضبوط جڑیں جما لیں، جن کے خلاف صنعا کی فوج اور امریکی ڈرونز مسلسل کارروائیاں کرتے رہے مگر یہ نیٹ ورک جوں کا توں برقرار رہا۔
اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اختتام پر جب عرب بہار کی لہر یمن پہنچی تو لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ اس عوامی لہر میں اخوان المسلمون کا یمنی ورژن یعنی “التجمع الیمنی للاصلاح” (الاصلاح پارٹی) سب سے بڑی اور منظم جمہوری و عوامی قوت کے طور پر ابھری، جس کے دباؤ کے نتیجے میں علی عبد اللہ صالح کو 2011-2012 میں خلیجی تعاون کونسل کے ایک معاہدے کے تحت اقتدار اپنے نائب عبد ربہ منصور ہادی کے سپرد کرنا پڑا۔ لیکن عرب بادشاہتوں، خصوصاً سعودی عرب اور بعد ازاں متحدہ عرب امارات کو اپنے پچھواڑے میں اخوان المسلمون کا سیاسی غلبہ اور ایک انتخابی جمہوری ریاست کا وجود کسی طور پر ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
اقتدار سے بے دخل ہونے والے علی عبد اللہ صالح نے الاصلاح اور انقلابی قوتوں سے بدلہ لینے کے لیے انہی حوثیوں کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ کر لیا جن کے خلاف وہ خود چھ خونی جنگیں لڑ چکا تھا۔ یوں خلیجی اشرافیہ کی عسکری اور مالی حمایت سے حوثیوں نے دارالحکومت صنعا کی طرف پیش قدمی شروع کی۔
حوثیوں نے ستمبر 2014 میں صنعا پر قبضہ کر کے جمہوری پیش رفت اور عبوری حکومت کی بساط لپیٹ دی، الاصلاح پارٹی کے کارکنوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، قائدین کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، یہاں تک تو معملات ٹھیک رہے۔ لیکن ریاض کے ہوش اس وقت اڑے جب حوثیوں نے دارلحکومت پر مکمل کنٹرول سنبھالتے ہی، صدر ہادی کو یرغمال بنا لیا۔ سعودی اثرورسوخ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدات کا اعلان کیا۔ براہِ راست پروازیں شروع کر دیں۔
تب مارچ 2015 میں سعودی عرب اور امارات نے سٹپٹا کر مشترکہ عسکری اتحاد کے ذریعے “عاصفۃ الحزم” (آپریشن فیصلہ کن طوفان) کا آغاز کیا۔ لیکن یمن کے سماجی اور جغرافیائی حقائق کو سمجھے بغیر مسلط کی گئی یہ عسکری مہم حوثیوں کا قلع قمع کرنے میں ناکام رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتحادی کیمپ میں دراڑیں آ گئیں۔
متحدہ عرب امارات نے عدن اور جنوبی ساحلی پٹی پر علی الصالح کے بھتیجے طارق صالح کی فورسز اور “جنوبی عبوری کونسل” (STC) جیسے علیحدگی پسندوں کو پروان چڑھایا جو جنوبی یمن کی الگ ریاست چاہتے ہیں، جبکہ سعودی عرب صدارتی کونسل اور روایتی قبیلوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس اتحادی خیمے کا داخلی تضاد اس قدر بڑھا کہ ان کے حامی گروہ حوثیوں کے خلاف لڑنے کے بجائے دونوں گروپ عدن اور شبوہ میں آپس میں ہی دست و گریبان ہو گئے۔
اس رسہ کشی کی انتہا پر جب علی عبد اللہ صالح نے دسمبر 2017 میں حوثیوں سے اتحاد توڑ کر امارات و سعودیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو حوثیوں نے صنعا میں چند گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد اسے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
صالح کے خاتمے کے بعد شمالی یمن پر حوثیوں کی گرفت بلاشرکتِ غیرے مستحکم ہو گئی اور ایرانی عسکری ماہرین، ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی کی بدولت انصار اللہ ایک ناقابلِ تسخیر ملیشیا سے باقاعدہ علاقائی پاور پلیئر میں تبدیل ہو گئی۔
اس کے بعد 7 اکتوبر 2023 کے طوفانِ اقصیٰ کے بعد حوثیوں نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی غیر مشروط حمایت کا نعرہ لگا کر بحیرہ احمر میں اسرائیل سے جڑے جہازوں پر ڈرون اور اینٹی شپ بیلسٹک میزائل داغ دیے اور تل ابیب تک ڈرونز اور میزائل حملے کیے۔ جوابا امریکی اور برطانوی بحریہ کے فضائی حملوں اور اسرائیلی جوابی بمباری نے حوثیوں کو عسکری طور پر کمزور کرنے کے بجائے ان کے داخلی بیانیے کو جلا بخشی۔
تاریخ میں پہلی بار ایسا منظر دیکھنے میں آیا کہ یمن کے کٹر سنی اکثریتی علاقوں اور قبائل میں بھی غزہ کی خاطر اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت حوثیوں کے جھنڈے لہرائے جانے لگے اور حوثی قیادت نے عرب عوام کے دلوں میں وہ جگہ بنا لی جو روایتی عرب ریاستیں کھو چکی تھیں۔
ایران امریکہ جنگ کے دوران بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی آبنائے باب المندب کی بندش نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ حوثیوں کی جانب سے اس تنگ سمندری راستے کی ناکہ بندی درحقیقت سعودی عرب کے لیے بھیانک خواب بن گئی۔ کیونکہ آبنائے ہرمز پر پہلے ہی ایرانی تلوار لٹک رہی ہے اور ایسے میں بحیرہ احمر کے راستے سعودی بندرگاہوں سے ہونے والی خام تیل کی تجارت اور سپلائی چین مکمل مفلوج ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
ریاض کی مشکل یہ ہے کہ یمن کے شطرنج پر اس کے ہاتھ میں مہرے انتہائی محدود ہیں۔ القاعدہ کو سیاسی طور پر چھوا نہیں جا سکتا؛ جنوبی ساحلوں پر قابض امارات نواز علیحدگی پسند اور طارق صالح کی فورسز ریاض کی مخالف فورس ہے جو ابوظہبی کے مفادات کے تحت چلتی ہیں۔
اس کا سارا دارومدار صنعا میں علی عبد اللہ صالح کی سیاسی پارٹی کے بچے کچھے دھڑے پر ہے، جو ایک کرپٹ اور قابل فراموش تاریخ کی علامت بن کر یمنی عوام میں اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔
سعودی عرب کا سب سے بڑا تضاد یہ رہا ہے کہ وہ سنی علاقوں کی سب سے جاندار اور منظم سیاسی و عوامی طاقت “الاصلاح پارٹی” کے ساتھ کھل کر شراکت داری کرنے سے اس لیے کتراتا ہے، کیوں کہ اس کی بنیادیں اخوان المسلمون سے جڑی ہیں اور جمہوری عمل کا خلیج کے موروثی نظام پر اثرانداز ہونے کا خوف بدستور طاری ہے۔
اگر ریاض کو یمن کے اس دلدل سے باوقار طریقے سے نکلنا ہے اور اپنی تیل کی لائف لائن اور بحری جہازوں کے لیے مستقل امن کی ضمانت درکار ہے، تو اسے مکہ معاہدے کے شراکت دار “ترکیہ” کے ذریعے “الاصلاح” کے ساتھ وسیع البنیاد مفاہمت کرنا ہوگی، اور جزیرہ نما عرب میں سیاسی اصلاحات و یمنی جمہوریت کے اس کڑوے گھونٹ کو نگلنا ہوگا جس کے ذریعے قبائلی اور سیاسی توازن بحال کیا جا سکے۔
صرف یہی ایک حقیقی اور وسیع عوامی نمائندہ سیاسی فریم ورک، حوثیوں کو مذاکرات کی سنجیدہ میز پر لا کر سعودی سرحدوں اور تجارتی راستوں کے تحفظ کی پائیدار ضمانت دلوا سکتا ہے۔
ورنہ مشکل یہ ہے کہ حوثیوں پر بڑے پیمانے پر حلے یمن کی گلیوں میں یہ تاثر مزید گہرا کریں گے ریاض واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات کی خاطر یہ کاروائی کر رہا ہے۔
اس بیانیے کی موجودگی میں سعودی عرب کو نہ تو فوجی محاذ پر فتح مل سکتی ہے اور نہ ہی اس کے معاشی و اسٹریٹجک منصوبوں کو پائیدار سلامتی کی ضمانت ملے گی۔
