پاکستان اور صومالیہ دفاعی معاہدہ: ہارن آف افریقہ میں بڑی تَزوِیراتی پیش رفت

بین الاقوامی سیاست کے کینوس پر جب بڑی سرخیاں جگہ گھیرتی ہیں تو گاہے بگاہے کچھ ایسی خاموش پیش رفتیں پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں جو خطوں کی تقدیر اور پاور پولیٹکس کا رُخ بدلنے کی خاموش صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسلام آباد اور موغادیشو کے مابین طے پانے والا حالیہ دفاعی تعاون کا معاہدہ محض ایک روایتی عسکری دستاویز نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ و عسکری پالیسی میں آنے والی اس بڑی تزویراتی تبدیلی کا آغاز ہے جس کا میدانِ عمل جنوبی ایشیا کے روایتی بارڈرز سے ہزاروں میل دور ہارن آف افریقہ کا ساحل بن رہا ہے۔ لیکن یہ اہم ترین پیش رفت، پاکستان سعودیہ اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے “مکہ دفاعی معاہدے” کی شہہ سرخیوں کے باعث پس منظر میں چلی گئی۔

اس پیش رفت کو سمجھنے کے لیے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالنا ناگزیر ہے۔ صومالیہ محض براعظم افریقہ کا ایک شورش زدہ ملک نہیں، بلکہ وہ خطہ ہے جس کا جغرافیہ قدرت نے دنیا کے اہم ترین سمندری چوک پوائنٹس کے دہانے پر تراشا ہے۔ خلیج عدن کے رخ پر کھڑا صومالیہ بحیرہ احمر کی طرف جانے والے باب المندب اور مغربی بحرِ ہند کے سمندری تجارتی راستوں کی چابی اپنے پاس رکھتا ہے۔ یہ وہ سمندری ہائی ویز ہیں جہاں سے دنیا کی لائف لائن کہلانے والی بین الاقوامی تجارت، تیل اور گیس کے کنٹینرز اور عظیم بحری طاقتوں کے جنگی جہاز چوبیس گھنٹے حرکت میں رہتے ہیں۔ گلوبل اسٹریٹجک کیلکولیشن کا سادہ سا قاعدہ ہے: جو ان چوک پوائنٹس پر اثر و رسوخ رکھے گا، دنیا کے معاشی اور تجارتی بہاؤ کی نبض اسی کے ہاتھ میں ہوگی۔

پاکستان کے لیے صومالیہ کے اس اہم جغرافیے میں موجودگی کا مطلب اپنے میری ٹائم زون کو وسعت دینا اور مغربی بحرِ ہند میں اپنے بحری و دفاعی قدم جمانا ہے۔ پاکستان نے تاریخی طور پر اپنی توانائی اور توجہ مشرقی اور مغربی سرحدوں تک محدود رکھی، لیکن بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس کا تقاضا ہے کہ پاکستان خود کو گوادر اور بحیرہ عرب سے آگے لے جا کر مغربی بحرِ ہند اور بحیرہ احمر کے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی آرکیٹیکچر میں ایک ناگزیر کھلاڑی کے طور پر منوائے۔

صومالیہ میں موجودگی پاکستان کو درج ذیل تزویراتی فوائد فراہم کرتی ہے:

  • میری ٹائم چوک پوائنٹس پر نگاہ: آبنائے باب المندب اور خلیج عدن جیسے حساس سمندری راستوں پر موثر میری ٹائم آگاہی اور نگرانی کی صلاحیت، جس سے پاکستان کے اپنے بحری تجارتی راستے محفوظ ہوتے ہیں۔
  • علاقائی طاقت کا توازن: مغربی بحرِ ہند کے پانیوں پر کسی بھی بیرونی قوت کی یکطرفہ اجارہ داری کو توڑنا اور سمندری بساط پر اپنی مستقل پوزیشن قائم کرنا۔
  • میری ٹائم ڈپلومیسی اور اثرو رسوخ: بحیرہ احمر اور خلیج کے سیکیورٹی دائرے میں ایک قابلِ اعتماد اسٹیک ہولڈر کے طور پر ابھرنا، تاکہ خطے سے متعلق فیصلوں میں پاکستان کا تزویراتی ووٹ نظرانداز نہ کیا جا سکے۔

یہ معاہدہ دراصل پاکستان کی “عسکری صلاحیت کو جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں بدلنے” کے فن کا عکاس ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صومالیہ کو اپنی افواج کی ازسرنو پیشہ ورانہ تعمیر، انٹیلی جنس نیٹ ورک، اور کم لاگت مگر موثر دفاعی ساز و سامان کی ضرورت ہے، پاکستان وہ واحد ریاست ہے جس کے پاس طویل انسدادِ دہشت گردی کا عملی تجربہ، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ایک خود کفیل دفاعی انڈسٹری موجود ہے۔ صومالی فوجیوں کی ٹریننگ، لاجسٹک سپورٹ اور ممکنہ عسکری سامان کی فراہمی صرف وقتی تعاون نہیں بنے گی، بلکہ یہ طویل مدتی اسٹریٹجک نیٹ ورکنگ اور دفاعی انحصار کو جنم دینے کی اہلیت رکھتی ہے، جس کا حتمی نتیجہ مستقل بین الاقوامی اثرو رسوخ کی صورت میں نکلتا ہے۔

بلاشبہ اس تزویراتی جستجو کے راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ صومالیہ کی پیچیدہ اندرونی حرکیات، افریقی ساحلوں پر وسائل کا طویل مدتی استعمال اور دیگر علاقائی طاقتوں کے متصادم مفادات کسی بھی وقت سفارتی توازن کو متزلزل کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد کو یہاں بغیر کسی دھڑے بندی کا حصہ بنے انتہائی سرد مہر اور پیشہ ورانہ سفارت کاری دکھانی ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ صومالیہ کے ساحلوں پر اسلام آباد کی حالیہ دستک ثابت کر رہی ہے کہ پاکستان اب اپنے جغرافیائی خول سے باہر نکل کر عالمی سمندری راستوں کی بڑی بساط پر اپنے مہرے آگے بڑھا رہا ہے۔ یہ اُس میز پر مستقل نشست حاصل کرنے کی جدوجہد ہے جہاں بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کی نئی سیکیورٹی حرکیات لکھی جا رہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *