مشرقِ وسطیٰ کی معاصر تاریخ کو اگر پروپیگنڈے اور تقدس کے غلافوں سے الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ خالصتاً دو توسیعی پسندانہ ریاستوں کے درمیان خطے پر تسلط کی بے رحم لڑائی ہے۔
سعودی عرب اور ایران، دونوں کی ریاستی ساخت اور پالیسیوں کا غیر جانبدارانہ مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کے پیچھے نہ تو کوئی خالص روحانی جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور نہ ہی امتِ مسلمہ کی خیرخواہی، بلکہ یہ اپنے جیو پولیٹیکل مفادات اور جغرافیائی اثر و رسوخ کے لیے مذہب کو محض ایک تزویراتی اوزار (Strategic Tool) کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

ریاض ہو یا تہران، دونوں نے یہ گُر خوب سیکھ رکھا ہے کہ اگر ریاستی مفادات پسندی پر مسلک اور مذہب کا لیبل لگا دیا جائے تو ایک اوسط دماغی صلاحیت کے آدمی کے اندر سوچنے سمجھنے کی استعداد مفلوج ہو جاتی ہے، اور وہ طاقت کے اس بے رحم کھیل کا ایندھن بننے کو اپنی عاقبت کی نجات سمجھ بیٹھتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر اس پورے کھیل کا طریقہ کار، پردوں کے پیچھے کام کرنے والی خفیہ اور منظم تنظیموں، بالخصوص فری میسنری سے سو فیصد مشابہ ہے۔ ویسا ہی تنظیمی ڈھانچہ۔ ایک مرکزی لیکن غیر مرئی ہیڈکوارٹر، دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اس کی شاخیں، ایک مرکز سے غیر مشروط بیعتِ وفاداری، اور اپنے مقامی جغرافیے، قانون اور شناخت سے ماورا ہو کر اس مرکز سے جڑ جانے کا اٹوٹ رشتہ۔ سب کچھ ایک جیسا ہی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ فری میسنز کے علامتی پرچموں کی جگہ یہاں سبز پرچم پر تلوار کے ساتھ کلمہ لکھا ہوتا ہے یا سبز، سفید اور سرخ کے درمیان اللہ اکبر تحریر ہوتا ہے۔ ان ارکان کو جوڑنے والا نعرہ توحید ہے یا ولایت فقیہ، باقی روح اور نظامِ کار بالکل ایک ہی ہے۔ جس کو تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس منظم پراکسی نیٹ ورک کی ابتدا تعلیمی اداروں اور وظائف سے ہوتی ہے۔ تیسری دنیا کے پسماندہ اور معاشی طور پر نڈھال مسلم خطوں سے باصلاحیت نوجوانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور انہیں ریاض، مدینہ، قم یا مشہد کے تعلیمی و دینی مراکز میں اسکالرشپ پر مدعو کیا جاتا ہے۔ جہاں یہ محض تعلیم کا حصول نہیں ہوتا بلکہ ایک باقاعدہ فکری ری پروگرامنگ کا عمل ہوتا ہے، جس میں نوجوان کے ذہن سے اس کی اپنی مٹی سے محبت، مقامی کلچر کی کشش، اپنے مقامی سماج سے تعلق کے علاوہ اپنے ملک و آئین کی وقعت کھرچ کر نکالی جاتی ہے۔ وہ سعودی یا ایرانی نظام اور طرز معاشرت کو آئیڈیلائز کرنے لگتا ہے۔
وہاں سے جو سند یافتہ نوجوان لوٹتے ہیں، اُن میں ایک بڑی تعداد محض استاد یا عالم بن کر نہیں بلکہ ریاض یا قم کی باقاعدہ فکری لائن اور مستقل فنڈنگ کے ذرائع لے کر واپس آتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کی قومی ترجیحات کا نمائندہ نہیں رہتے بلکہ اُس ریاست کے ترجمان ہوتے ہیں، جس کا نمک اُن کی رگوں میں وظیفے کی صورت دوڑ رہا ہوتا ہے۔ اُن کی وفاداری اپنے ملک کے آئین، اپنی سرحدوں یا اپنے لوگوں سے نہیں رہتی، بلکہ اس کا قبلہ اور کعبہ وہ وظیفہ اور مستقل فنڈنگ دینے والا مرکز بن چکا ہوتا ہے۔
وطن واپسی پر یہ کیڈر اُسی غیر ملکی رقوم اور لٹریچر کے بل بوتے پر تنظیمیں، ادارے، مساجد، مدارس اور خیراتی ادارے قائم کرتا ہے۔ یہ نیٹ ورکس مقامی طور پر ان بیرونی ریاستوں کی فکری اور سیاسی چھتری بن جاتے ہیں۔ اگر ریاست کمزور ہو، جیسا کہ ہم نے لبنان، یمن یا عراق میں دیکھا، تو یہ نیٹ ورک خود ریاست کے متبادل کے طور پر کھڑا ہو جاتا ہے اور بندوق کے زور پر پورے ریاستی نظام کو یرغمال بنا لیتا ہے۔
اگر ریاست مضبوط ہو اور اس میں مکمل بغاوت کی گنجائش نہ بنے، تو یہ نیٹ ورک ایک متوازی ریاستی ڈھانچے کی طرح اس کے اندر چھپ کر کام کرتا ہے، عوامی رائے عامہ کو بیرونی مفادات کے حق میں ہموار کرتا ہے، خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر عسکریت پسند افرادی قوت بھی مہیا کرتا ہے۔
جب بھی سعودیہ اور ایران کو اپنے مفادات کی جنگ لڑنی ہوتی ہے تو وہ اپنے فوجیوں کو مروانے کے بجائے اسی تربیت یافتہ خام مال کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ یا پھر یہ لوگ اپنے ہی معاشروں میں نفرت کے بیج بو کر انہیں خانہ جنگی کے دھانے پر لا کھڑا کرتے ہیں۔
آج بین الاقوامی اسلامی معاشرہ، جس خوفناک انتشار، عدم استحکام اور انتہا پسندی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، وہ کسی آسمانی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس میں سب سے بڑا حصہ سعودیہ اور ایران کی اسی مسلسل اور باقاعدہ مداخلت کا شاخسانہ ہے۔
یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مسلم دنیا میں اختلافی نکات چودہ صدیوں سے موجود ہیں، مگر مسلمان معاشرے اتنے بانجھ پن کا شکار نہیں تھے کہ ان اختلافات کے ساتھ بقائے باہمی کا توازن قائم کرنے سے عاجز ہوں۔
حالیہ عرصے میں اس تاریخی اور قدرتی تنوع کو تباہ کرنے کا اصل سبب یہ رہا کہ ان اندرونی فقہی یا مسلکی اختلافات کو باہر سے منظم تنظیمی، مالی اور نظریاتی ایندھن ملتا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال دو دارالحکومتوں نے اپنے اقتدار اور مفادات کی جنگ کو مقدسات کا ٹکراؤ بنا کر کئی ممالک کے گلی کوچوں میں لڑی جانے والی خونی جنگ میں بدلا ہوا ہے۔
ان کی پراکسیز کے لیے پڑوسی کو کافر قرار دینا، اپنے ہم وطنوں کے خلاف محاذ کھولنا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا ایک کھیل بن گیا ہے۔
جب تک سعودی اور ایران کے برسر اقتدار حلقوں کو یقین رہے گا کہ دوسرے ممالک میں پراکسی بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ ان کے لیے ایک سستا، آسان اور خطرے سے پاک تزویراتی ہتھیار ہے، تب تک امت کے لگنے والے یہ گہرے اندرونی زخم کبھی مندمل نہیں ہو سکتے۔ اپنے گلی کوچوں کو پرامن رکھنے کے لیے دوسرے مسلم ممالک کو مقتل بنا دینے کی یہ حکمتِ عملی مقدسات کے نام پر عظیم فریب ہے۔
دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، جلد ریاض اور تہران، دونوں ہی کو بالآخر ایک ہی سوال کا بے لاگ سامنا کرنا پڑے گا: کیا تمہاری بقا اور ترقی اپنے ہی مسلم پڑوسیوں کو کمزور، دست نگر اور تباہ حال رکھنے میں ہے، یا پھر ایک ایسے پائیدار اور خودمختار خطے کی تعمیر میں جہاں فرقہ ریاست کا سفارتی اور سیاسی اوزار نہ رہے؟
جب تک جب تک پراکسی بنانے کی اس ذہنیت سے دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی، تب تک مذہبی اسکالرشپس بھی بلا روک ٹوک جاری رہیں گی، ان کے زیرِ اثر بننے والی پراکسی تنظیمیں بھی پنپتی رہیں گی، اور عام شہریوں کی بے گناہ لاشیں بھی یوں ہی گرتی رہیں گی۔ خواہ میدان جنگ، عراق و شام ہوں یا یم و پاکستان۔