جنگوں کی تاریخ کا سب سے پرانا اور کڑوا اصول ہے کہ تنازعات میں پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے۔ جب میدانِ جنگ سے متضاد دعوے سامنے آئیں، تو وار رپورٹنگ اور تزویراتی تجزیہ نگاری کا اصول یہ ہے کہ فریقین کے بیانات کو کرمنالوجی اور سیاسیات کے کلاسیکی فارمولے “Cui bono?” (اس کا فائدہ کس کو ہے؟) پر پرکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ کوئی بھی عسکری قوت اپنے اسٹیٹجک مقاصد اور مفاد کو قربان کر کے ایسا عمل نہیں کرتی، جس سے اس کے اپنے وجود، بیانیے اور سیاسی مفاد پر کلہاڑی چل جائے۔

اس کی سب سے واضح اور حالیہ مثال 7 اکتوبر 2023 کے واقعات میں ملتی ہے۔ اس روز حماس نے عسکری کارروائی کر کے اسرائیلی انٹیلی جنس اور ناقابلِ تسخیر دفاع کے زعم کو توڑا، جو کہ ایک ریکارڈ شدہ حقیقت تھی۔
مگر اس جھٹکے کو زائل کرنے کے لیے اسرائیلی اور مغربی صہیونی نواز میڈیا نے فوراً یہ سنسنی خیز پروپیگنڈا پھیلایا کہ “حماس نے 40 نوزائیدہ بچوں کے سر قلم کیے ہیں”۔ اگرچہ حماس نے اس کی فوری تردید کی تھی۔
پیشہ ورانہ جنگی رپورٹنگ کے نقطۂ نظر سے یہ بات پہلے دن ہی عیاں تھی کہ شیر خوار بچوں کے قتل کا حماس کو کوئی سیاسی، عسکری یا اخلاقی فائدہ نہیں ہو سکتا تھا؛ اس دعوے کا 100 فیصد تزویراتی فائدہ صرف اسرائیل کو تھا تاکہ وہ غزہ پر وحشیانہ کارپٹ بمباری جواز پیدا کر سکے۔
مہینوں بعد مکمل ہونے والی آزاد صحافتی تحقیقات نے اسرائیلی دعوے کی دھجیاں بکھیر دیں تھیں۔
بالکل یہی ‘وار پروپیگنڈا ماڈل’ یمن کی جنگ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر مبینہ ڈرون یا میزائل حملوں کے دعوؤں پر صادق آتا ہے۔ جب بھی سعودی اتحاد یمن کے میدان ہار چکا ہے، اس کی دفاعی لائنیں ٹوٹ چکی ہیں، تو مکہ پر حملے کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا فائدہ کس کو ہے اور نقصان کس کا؟
ایک طرف یہ حملہ حوثیوں کے لیے اسٹیٹجک خود کشی (Strategic Suicide) کے مترادف ہے۔ انصار اللہ یمن کا ایک مسلمان گروہ ہے جو نہ صرف عرب شناخت رکھتا ہے بلکہ پچھلے سالوں میں غزہ کی کھل کر حمایت کر کے عالمِ اسلام کے عوام میں ہمدردی حاصل کر چکا ہے۔ مکہ مکرمہ کی طرف ایک بھی گولی چلانا ان کے لیے نظریاتی، سیاسی اور اخلاقی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ اس کا نتیجہ فوری طور پر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی مستقل نفرت اور ان کے تمام تزویراتی مقاصد کی راکھ بننے کی صورت میں نکلے گا۔
دوسری جانب، اس حملے کا براہِ راست فائدہ صرف اور صرف سعودی عرب کو ملنا ہے۔ جب سعودی فضائیہ کی ناکامی، کرپٹ پراکسیز کا فرار اور بحیرہ احمر و باب المندب کا کنٹرول ہاتھ سے نکلتا حقیت بن چکا ہے۔ تو یہ حملہ یمن کی جنگ کو “سعودی بادشاہت کے مفادات” کے بجائے “حرمین شریفین کے تحفظ” کی جنگ بنا دیتا ہے۔ یہ ہی وہ واحد کارڈ ہے جس سے عالمی مسلم برادری، خصوصاً پاکستان اور مصر جیسے ممالک کی افواج اور عوام کو جذباتی بلیک میل کر کے یمن میں کاروائی کے لیے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔
حوثیوں کے تمام اپنے میڈیا چینلز اور تمام بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر یمنی عسکری ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ سامنے آتے ہی، اس کی فوری اور دو ٹوک الفاظ میں اس کی تردید کی اور واضح کیا کہ ان کے اہداف صرف اور صرف سعودی تیل کی تنصیبات اور فوجی ہوائی اڈے ہیں۔
پیشہ ورانہ وقائع نگاری چیخ چیخ کر یہ بتاتی ہے کہ جو گروہ جنگ میں مضبوط پوزیشن پر آ چکا ہو، وہ کبھی بھی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار کر مکہ جیسے مقدس ترین مقام کو ہدف نہیں بنائے گا۔ ایسے دعوے میدانِ جنگ کی عبرتناک شکستوں کو چھپانے اور عالمی سطح پر مظلومیت کا ڈھونگ رچا کر ہمدردی سمیٹنے کی ایک پرانی اور ناکام انفارمیشن وار فیئر (Information Warfare) تکنیک ہیں۔