گزشتہ روز “عرب اتحادی افواج” کے ترجمان سعودی میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ “سعودی فضائی دفاعی نظام نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے ایک معاندانہ بغیر پائلٹ طیارے (ڈرون) کو مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل کامیابی سے روک کر فضا میں ہی تباہ کر دیا”۔

سعودیہ کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان میں ڈرون کی شناخت اور ماڈل، اس کے لانچ کا مقام، اس کے اختیار کردہ فضائی راستے اور ملبے کے گرنے کے جغرافیائی مقام کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا اور کوئی تکنیکی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
اگرچہ اس مبہم دعوے سے عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم اس سے کئی ایک سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ آئیے اس دعوے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ بین الاقوامی ہوا بازی اور سعودی ایوی ایشن کے قواعد کے تحت مکہ مکرمہ کی فضائی حدود کو ایک ممنوعہ زون (OE-P1) قرار دیا گیا ہے۔ جس کا دائرہ مسجد الحرام کے تقریباً بیس کلومیٹر کے ریڈیئس پر محیط ہے اور یہ سطح زمین سے شروع ہو کر لامحدود بلندی تک نافذ العمل ہے۔
اس ممنوعہ فضائی دائرے کے جنوبی سرے سے یمن کی بین الاقوامی سرحد کا سیدھا فضائی فاصلہ کم سے کم بھی چھ سو کلومیٹر بنتا ہے، جبکہ حوثیوں کے معروف ڈرون لانچ پیڈز یعنی شمالی یمن کے صعدہ یا دارالحکومت صنعاء کے مضافاتی علاقوں سے یہ سیدھا فاصلہ آٹھ سو سے ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر تک ہے۔ اس راستے کا زمینی جغرافیہ بھی بے حد پیچیدہ ہے؛ ابتدائی چند سو کلومیٹر حصہ “عسیر” کے دشوار گزار، ناہموار اور بلند و بالا پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے، جس کے بعد بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی اور منطقہ حجاز کے نیم صحرائی نشیب و فراز آتے ہیں۔
تکنیکی اعتبار سے حوثیوں کے زیرِ استعمال طویل فاصلے کا تیز ترین ڈرون بھی دو سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور جب اس پر گولہ بارود اور وار ہیڈ لوڈ کر دیا جائے تو اس کی رفتار مزید کم ہو جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر حوثی عین سعودی عرب کی سرحد پر کھڑے ہو کر بھی اپنا تیز رفتار ترین ڈرون داغیں، تو اسے ناک کی سیدھ میں مکہ کے نو فلائی زون تک پہنچنے میں کم از کم ڈھائی گھنٹے لگیں گے، جبکہ معروف لانچ پیڈز سے یہ وقت ساڑھے تین سے چار گھنٹے تک ہو جاتا ہے۔
اس طویل اور حساس راستے کے دفاع کے لیے سعودی عرب نے دنیا کے مہنگے ترین اور تہہ در تہہ فضائی دفاعی نیٹ ورکس کا مکمل ایکو سسٹم قائم کر رکھا ہے۔ بارڈر سیکٹرز اور اندرونی اسٹریٹجک تنصیبات پر امریکی ساختہ پیٹریاٹ (PAC-2 اور PAC-3) میزائل بیٹریاں کئی تہوں میں تعینات کی گئی ہیں، ان کے ساتھ ہی کم اونچائی پر کارروائی کے لیے فرانسیسی ساختہ کروٹال اور شاہین موبائل سسٹمز موجود ہیں۔ پھر چینی ساختہ خاموش شکاری کہلانے والے لیزر سسٹمز اور نیچی پرواز کرنے والے ہداف سے دفاع کے لیے اورلیکن اسکائی گارڈ ایئر ڈیفنس گنز تعینات ہیں۔ اس نظام کو فضا میں چوبیس گھنٹے پرواز کرنے والے ایواکس طیاروں سے نگرانی کا دیٹا ملتا ہے، جو فضا سے نیچے کی طرف انتہائی کم بلندی پر اڑنے والی تمام اشیاء کو شناخت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلسل فضا میں گشت کرنے والے سعودی فضائیہ کے F-15 اور ٹائفون لڑاکا طیارے ائیر ٹو ائیر میزائلوں کے ساتھ ہنگامی کارروائی کے لیے مستعد رہتے ہیں۔
یہاں ایک بات اور سمجھنا ضروری ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی سرزمین پر ماضی میں کیے گئے کامیاب ڈرون حملوں کا جائزہ لیا جائے، تو واضع ہوتا ہے، وہ کبھی بھی سعودی فضائی دفاعی نظام کی عمومی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھے۔ بلکہ وہ تمام “مربوط سیچوریشن تکنیک” (Swarm Tactics) کے ذریعے ممکن بنائے گئے تھے۔
مثلا بقیق اور خریص کی آرامکو تنصیبات، جدہ کے آئل ٹرمینل یا ریاض کی پائپ لائن پر ہونے والے حملوں میں حوثیوں نے بیک وقت درجنوں ڈرونز اور متعدد کروز یا بیلسٹک میزائلوں کو ایک بڑے غول کی صورت میں وقفوں سے داغا تھا۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ سعودی پیٹریاٹ کے تیز رفتار اور طاقتور ریڈارز کو اونچائی پر آنے والے بیلسٹک کو روکنے میں الجھایا جائے، تاکہ کم اونچائی پر اڑنے والے صماد اور وعید ماڈل کے خودکش ڈرونز دفاعی لائن کی اہداف کو نشانہ بنابے کی حد کا فائدہ اٹھا کر اندر تک سرایت کر سکیں۔ اور یہ تکنیک کئی بار کامیاب ہوئی۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق یمن سے داغے جانے والے کسی تنہا ڈرون کا واحد کامیاب ترین حملہ جون 2019 میں “ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ” پر ہوا تھا، جس میں ایک تنہا “قاصف-2K” طرز کے ڈرون نے ایئرپورٹ کے قریب پرائیوٹ کار پارکنگ کو نشانہ بنایا تھا۔ مگر اس واقعے کا جغرافیائی پس منظر کو سمجھنا اہم ہے۔ سعودیہ کا “ابھا ایئرپورٹ” یمنی سرحد سے 100 کلومیٹر سے کم فاصلے پر واقع ہے۔ صنعا سے اس ائیر پورٹ تک کا تمام درمیانی فاصلہ “عسیر” کے انتہائی دشوار، تنگ اور اونچے پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ یہاں نچلی پرواز کرنے والا ڈرون گہری وادیوں کے خدوخال اور زمینی گونج (Ground Clutter) کی اوٹ لے کر ریڈارز کے بلائنڈ اسپاٹس سے گزرتے ہوئے ہدف تک پہنچ گیا تھا، یہ دنیا میں مسلمہ عسکری حقیقت ہے کہ پہاڑی جغرافیہ زمینی دفاع کی سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے۔
اب یہاں سے تیکنیکی سوال جنم لیتے ہیں کہ ۔۔۔۔ اگر ایک اکیلا ڈرون یمن کے اندر سے آٹھ سو کلومیٹر تک کا فاصلہ کم سے کم چار گھنٹوں کی سست رفتار پرواز کے ساتھ طے کر کے بغیر کسی مکہ کے نو فلائی زون تک کیسے پہنچ گیا؟
وہ اس راستے میں موجود پیٹریاٹ بیٹریوں، ایواکس کی مستقل نگرانی اور لڑاکا طیاروں کی درجنوں دفاعی تہوں سے کیسے محفوظ رہا؟
اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ کسی ایسی غیر معمولی اسٹیلتھ صلاحیت کا حامل تھا کہ سینکڑوں کلومیٹر تک نہ تو ڈیٹیکٹ ہو سکا اور نہ مارا جا سکا، تو پھر وہ مکہ کی فضائی حدود کے دروازے پر پہنچ کر اچانک کیسے نظر آ گیا اور کس بنیاد پر مار گرایا گیا؟
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مکہ کے ممنوعہ فضائی زون میں کوئی خودکار یا اعلیٰ صلاحیت کا حامل جارحانہ ایئر ڈیفنس سسٹم سرے سے موجود ہی نہیں ہے، بلکہ یہ عملا کمرشل اور مسافر بردار طیاروں کی محدود علاقے میں پرواز روکنے کا ایک انتظامی پروٹوکول ہے۔
پھر سعودی عرب کی جانب سے اسلام کے اس مقدس ترین شہر پر ڈرون حملے کے بارے میں سرکاری نیوز ایجنسی پر محض ایک روایتی زبانی بیان جاری کیا گیا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں حساس مقامات مثلاً جوہری تنصیبات پر کسی حملے کو ریکارڈ پر لانے کا ایک مکمل اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروٹوکول رائج ہے، جس میں حملہ آور آنجکٹ کے ملبے اور اس کے ملنے کے مقام کی مکمل جغرافیائی تفصیل، ملبے کی ہائی ریزولوشن تصاویر اور سیٹلائٹ و ملٹری ریڈارز کا مکمل ٹریکنگ لاگ باقاعدہ طور پر منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ مکہ شہر کسی بھی جوہری تنصیب سے ہزار گناہ زیادہ حساس مقام ہے، جس سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات وابسطہ ہیں،
یہ اس لیے بھی بہت ضروری تھا کیوں کہ جس فریق پر حملے کا الازم لگایا گیا ہے، اُس نے دوٹوک الفاظ میں اس کی تردید کی ہے۔ اس کے باوجود تاحال ایک بیان کے سوا ایسی کوئی ٹھوس تکنیکی شہادت سامنے نہیں لائی گئی، جس سے دعوے کا ثبوت ملتا ہو۔
اس صورتحال میں مکہ پر ڈرون حملے کا دعویٰ حقیقت کے بجائے ایک سیاسی بیانیے کی شکل زیادہ محسوس ہوتا ہے۔