مکہ اور مدینہ پر حملوں کے الرٹ: عسکری ناکامی پر مذہبی پروپیگنڈے کا غلاف

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جانب حوثیوں کے میزائل یا ڈرون حملوں کے الرٹس، بظاہر فرسودہ وار پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ہیں، جن کا مقصد عسکری شکست کو مذہبی جذباتیت کی اوٹ میں چھپانا ہے۔

اگر ہم یمن کی جنگ کے نشیب و فراز اور عسکری تاریخ کا تجزیہ کریں تو یہ پروپیگنڈا خودبخود بے نقاب ہو جاتا ہے۔ 21 ستمبر 2014 کو جب انصار اللہ نے یمن کے دارالحکومت صنعاء کا کنٹرول سنبھالا، تو ریاض کا ابتدائی ردِعمل صرف “عبد ربہ منصور ہادی” کی کمزور حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے تھا۔ تاہم خلیجی ممالک بوکھلاہٹ اُس وقت شروع ہوئی، جب یکم مارچ 2015 کو صنعاء میں حوثی انتظامیہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ فضائی رابطوں اور اقتصادی و تزویراتی تعاون کا باضابطہ معاہدہ طے پا گیا۔ اس اسٹریٹجک شفٹ نے ریاض اور ابوظہبی کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں، جس کے نتیجے میں محض چند ہفتوں بعد 26 مارچ 2015 کو “آپریشن ڈیسائسو اسٹارم” (عاصفۃ الحزم) کے نام سے ایک وسیع تر عرب فوجی اتحاد میدان میں اتار دیا گیا۔

اس فوجی یلغار کے دوران ایسی شدت دیکھنے میں آئی کہ سعودی اور اتحادی فضائیہ نے یمن کے شہروں پر ایک ایک دن میں دو دو سو سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں صنعاء کا صدارتی کمپاؤنڈ، جبلِ نقم کے گولہ بارود کے ڈپو، صعدہ کے بنیادی ڈھانچے اور حجہ کے پُل اور تنصیبات تک سب کچھ ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ ایک وقت تک ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انصار اللہ اس بے پناہ فضائی طاقت اور بربادی کے طوفان کے سامنے کھڑی نہیں رکھ سکے گی اور شکست ان کا مقدر بن جائے گی۔

مگر میدانِ جنگ کی حقیقتیں ہوا کے رخ پر نہیں چلتیں۔ حوثیوں نے سخت جانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خود کو بکھرنے سے بچایا بلکہ اس طویل فضائی مہم کے دوران جوابی حملے بھی کیے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اندر ابقیق اور خریص کی اہم ترین آئل پروسیسنگ فیسیلٹیز کو نشانہ بنایا، ینبع اور راس تنورہ کی ریفائنریز پر ڈرون داغے، اور خمیس مشیط کے شاہ خالد ائیربیس یا نجران و جیزان کے فوجی اڈوں کو نشانے پر لیا، لیکن جوابی کاروائی میں کبھی بھی شہری آبادیوں یا گنجان سول شہروں پر اندھا دھند حملے نہیں کیے۔

وقت گزرنے کے ساتھ خلیجی عسکری اتحاد خود اپنے تضادات کا شکار ہو گیا؛ یمن کے ساحلی اور جزیراتی وسائل پر قبضے کی رسہ کشی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے۔ پھت سعودی حمایت یافتہ دھڑے اور اماراتی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) آپس میں برسرِ پیکار ہو گئے۔
حوثیوں کو اس پھوٹ سے سانس لینے کا موقع ملا۔ بعد ازاں اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی وساطت سے نافذ ہونے والی تاریخی جنگ بندی اور 2023 کے دوران چین کی ثالثی میں تہران-ریاض معاہدے کے بعد یمن میں مکمل سکون ہوگیا۔ اس طویل سکون نے انصار اللہ کو اپنی عسکری قوت، میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی اور اندرونی صف بندی کو بے پناہ مضبوط کرنے کا نادر موقع فراہم کیا۔ پھر غزہ کی حمایت میں اسرائل کے خلاف اعلان جنگ اور بحری ناکہ بندی نے یمن کے اندر اس کی حمایت میں زبردست اضافہ کیا۔

یمن میں جاری سیز فائر کو سعودی عرب نے صنعاء انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملہ کر کے توڑ دیا۔ جس کے جواب میں حوثیوں نے سعودیہ کے جنوبی صوبوں، عسکری ہوائی اڈوں اور تیل کے ذخائر پر ایک بار پھر ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لیکن حوثیوں کا اصل جوابی وار یمن کے اندر سعودی و اماراتی پراکسیز کے خلاف سامنے آیا؛ انہوں نے ساحلی پٹی پر حیس اور الخوخہ سے ہوتے ہوئے تاریخی موخا پورٹ اور آبنائے باب المندب کے اسٹریٹجک دہانے پر پیش قدمی کر کے مخالف فورسز کو روند ڈالا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ اس فیصلہ کن اور تباہ کن پیش رفت کے دوران سعودی فضائیہ کی جانب سے ماضی جیسا کوئی بھی بڑا فضائی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا، جس پر خود سعودی عرب کی حمایت یافتہ دھڑوں اور پراکسی کمانڈروں نے سوشل میڈیا اور بیانات میں ریاض پر دھوکے بازی اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے کھلے الزامات عائد کیے ہیں۔

واضع رہے کہ باب المندب کا یہ یمنی دہانہ مکمل طور پر حوثیوں کے ہاتھ میں چلے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کی بحیرہ احمر سے تیل کی سپلائی اور تجارت اب عملاً مکمل بحری محاصرے میں آ چکی ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں پہلے ہی سعودی تیل کی برآمدات و دیگر تجارت غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔

اب ذرا بنیادی عسکری اور سیاسی منطق پر غور کیجیے۔ تاریخ کے اس موڑ پر جب انصار اللہ صنعاء سے لے کر باب المندب کے دہانے تک اپنی تاریخ کی سب سے مضبوط اور فیصلہ کن پوزیشن پر فائز ہے، اور عالمی میری ٹائم سیکورٹی کی نبض اس کے ہاتھ میں ہے، تو اس کے پاس مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ جیسے مقدس شہروں کی جانب ایک بھی ڈرون یا میزائل فائر کرنے کی کیا عسکری تُک بنتی ہے؟؟
جس کارروائی کا کوئی بھی سٹیٹجک یا عسکری فائدہ ممکن نہیں اور جس کا واحد نتیجہ پوری دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا کر اپنے خلاف ایک عالمگیر غم و غصے کا محاذ کھولنا ہو۔
ایسی حماقت کوئی پاگل بھی نہیں کر سکتا۔ جبکہ حوثیوں کے مذہبی خیلات اور فکر سے لاکھ اختلاف کے باوجود بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اُن کے عقیدے میں بھی مکہ اور مدینہ اُتنے ہی مقدس شہر ہیں جتنے کے کسی دوسرے مسلمان کے لیے ہو سکتے ہیں۔
اس لیے یہ الرٹ محض “میڈیا کارڈ” ہیں، جو اسلام کے مقدس ترین مقامات کو ڈھال بنا کر امتِ مسلمہ کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ سعودی قیادت اور خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز خطے کے اس نئے اور تلخ زمینی حقیقت کا کھلے دل سے ادراک کریں۔ جو معرکہ اربوں ڈالر کے جدید ترین مغربی ہتھیار، طویل فضائی بمباری اور کرائے کے لشکر میدان میں نہ جیت سکے، اسے اب مقدس مقامات کے نام پر گھڑے گئے سستے پروپیگنڈے اور من گھڑت خطرات کے بیانیے سے ہرگز نہیں جیتا جا سکتا۔
یمن کی سرزمین بھی افغانستان کی طرح صدیوں سے بیرونی تسلط ہمیشہ مسترد کرتی آئی ہے، اور وہاں پائیدار استحکام کا واحد راستہ ایک مضبوط، خود مختار اور حقیقی عوامی نمائندہ حکومت کا قیام ہے۔ اس تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے خلیجی بادشاہتوں کو اپنی سرحدوں سے باہر عوامی مرضی، حقِ خودارادیت اور جمہوری روح کو تسلیم کرنا پڑے گا، ورنہ اس تزویراتی انکار اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا نتیجہ خطے کو مزید تباہ کن بحرانوں اور ان کے اپنے اقتدار کو مستقل غیر یقینی صورتحال میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *